The news is by your side.

Advertisement

نئی دہلی : اجتماعی زیادتی کے چار مجرم جمعہ کو پھانسی پر لٹکائے جائیں گے

نئی دہلی : چلتی بس میں ایک طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرموں کو جمعہ کو پھانسی دے دی جائے گی، تہاڑ جیل میں صبح ساڑھے پانچ بجے تختہ دار پر لٹکایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق نربھیا کیس میں سزا یافتہ 4مجرمان کو 20مارچ بروز جمعہ کی صبح 5:30 بجے پھانسی دی جائے گی، زیادتی کیس میں ملوث اکشے ٹھاکر ، ونے شرما، پون گپتا اور مکیش سنگھ کو تیز ترین ٹرائل کے بعد 2013 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جس پر عمل درآمد تقریباً چھ سال بعد ہو رہا ہے۔

ان مجرموں کو تہاڑ جیل میں کیسے پھانسی دی جائے گی اور قانونی کارروائی کیسے ہوگی اس حوالے سے تہاڑ جیل کے سابق قانونی مشیر سنیل گپتا نے کہا کہ اب نربھیا واقعے کے مجرموں کی پھانسی ہونا یقینی ہے۔

انہون نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں جیل میں پھانسی کے آٹھ واقعات دیکھے لیکن یہ تہاڑ جیل کی تاریخ میں پہلی بار ہونے جا رہا ہے جب چار مجرموں کو ایک ساتھ پھانسی دی جائے گی۔

سنیل گپتا نے بتایا کہ ‘تہاڑ جیل نمبر تین میں ایک پھانسی سیل ہے، صبح 4 بجے ملزموں کو پھانسی کے لیے لے جایا جائے گا۔ ان سے نہانے کو کہا جائے گا، ان کو چائے دی جائے گی۔

اس کے بعد انہیں کالے کپڑے پہننے کے لئے دیئے جائے گے، ساڑھے چار بجے تک مجسٹریٹ وہاں پہنچیں گے اور مجرموں سے ان کی آخری خواہش پوچھی جائے گی۔

اگر وہ کوئی قانونی عمل مکمل کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس کو ریکارڈ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جلاد مجرموں کے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے گا اور انہیں پھانسی کے پھندے تک لے جایا جائے گا۔

انہیں لکڑی کے پلیٹ فارم پر چڑھانے کے بعد ان کے پاؤں باندھ دیئے جائیں گے اور سر کالے کپڑے سے ڈھانپ دیا جائے گا۔ چاروں کی گردن میں پھانسی کا پھندہ ڈال کر لیور کھینچ لیا جائے گا اور بلآخر چاروں کی موت ہوگی۔

تہاڑ جیل کے سابق قانونی مشیر سنیل گپتا نے کہا کہ ‘مجرموں کو پھانسی کے بعد تقریبا 30 منٹ تک پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے گا۔ اس کے بعد طبی جانچ ہوگی اور مجرموں کو قانونی طور پر مردہ قرار دیا جائے گا۔ پھر ان کی لاش نکال کر پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال کی مردہ خانہ بھیج دی جائے گی۔

پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی نعش لواحقین کے حوالے کردی جائے گی، اگر کوئی نعش لینے سے انکار کرتا ہے تو آخری رسومات تہاڑ جیل انتظامیہ ہی کریں گی۔ ان چاروں کا سامان جیل انتظامیہ ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دے گی۔

یاد رہے کہ دسمبر 2012 میں چلتی بس میں ایک طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیے گئے تھے، نربھیا کیس میں چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم رام سنگھ نامی ملزم نے مارچ 2013 میں جیل میں ہی خود کشی کرلی تھی،۔

اجتماعی زیادتی کے الزام میں ایک 17 سالہ نوجوان بھی گرفتار ہوا تھا جسے تین برس قید کی سزا سنائی گئی اور وہ بھارتی قانون کے مطابق نابالغ مجرموں کو ریپ کیس میں اس سے زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں