The news is by your side.

Advertisement

سارک کانفرنس: جنوبی ایشیا کی سرحدیں اور تاریخ مشترکہ ہے: چوہدر ی نثار

اسلام آباد: ساتویں سارک وزرائے داخلہ کانفرنس کا تیسرا دور آج وفاقی دارالحکومت میں شروع ہوگیا ہے، وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آج کے سیشن کے آٓغاز پر کانفرنس کے شرکاء کو خوش آمدیدکہا۔

تفصیلات کے مطابق سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کا اجلاس وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خاں کی زیرصدارت جاری ہے ، اجلاس میں وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف بھی شریک ہیں۔

تقریب سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثارعلی خاں نے کانفرنس کے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور 2014 میں کھٹمنڈو میں ہونے والی سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں زیر بحث آنے والے امور کا تذکرہ کیا۔

سارک وزرائے داخلہ کانفرنس اسلام آباد میں شروع*

سارک کانفرنس کا دوسرا روز‘ سیکرٹری داخلہ سطح کا اجلاس*


ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی ایک مشترکہ تاریخ ہے اور آپس میں سرحدیں بھی مشترک ہیں جس کے سبب یہ تمام ممالک انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج جنوبی ایشیا کے ممالک کو جن مسائل کا سامنا ہےان میں دہشت گردی ، کرپشن ، ڈرگ اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ ، ہیومن ٹریفکنگ سرفہرست ہیں۔ ان مسائل سے خطہ اجتماعی طور پر ترقی پذیری کا شکار ہے۔

چوہدر نثار نے کہا کہ پاکستان سارک کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور پر امن خطے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔

سارک کانفرنس میں رکن ممالک یعنی پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش ، نیپال، بھوٹال، افغانستان اور سری لنکا کے وزرائے داخلہ اور دیگر حکام شریک ہیں ۔

سارک کے وزرا ئے داخلہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، منشیات کی اسمگلنگ سے متعلقہ مسائل ، چھوٹے ہتھیاروں اور اس طرح کے دیگر چیلنجزکا مقابلہ کرنے کے لئے مربوط اور ٹھوس کوششیں زیر بحث لائی گئی ہیں جبکہ کانفرنس کے ایجنڈے میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر غور کیا جارہا ہے۔

 گزشتہ روز ڈی جی پاسپورٹ امیگریشن پاکستان عثمان باجوہ کی زیر صدارت سارک ممالک کےڈی جی امیگریشنز کا پہلا اجلاس ہوا جس میں سارک ممالک کےشہریوں کے لیےویزےسےاستثنیٰ پرغورکیا گیا۔

یاد رہے کہ خطےکےممالک میں باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینےکےپلیٹ فارم سارک میں پاک بھارت کشیدگی،خاص طور پرکشمیر سمیت باہمی تنازعات کےحل میں بھارتی ہٹ دھرمی سارک کےموثر ہونےمیں بڑی رکاوٹ قراردی جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں