کراچی: 11اپریل 2006 کو کراچی میں نشترپارک کے مرکزی جلسے میں دہشت گردی کا جو ہولناک واقعہ پیش آیا تھا خودکش بمبار اس واردات کیلیے راضی نہیں تھا۔
آج سے 19 سال قبل کراچی میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر نِشترپارک میں ہونے والا خودکش دھماکا پاکستان کی تاریخ کے ہولناک ترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس اندوہناک سانحے میں 61 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوئے جس نے نہ صرف شہرِ قائد بلکہ پورے ملک کو سوگوار کردیا تھا۔
زوردار بم دھماکے سے جید علماء کرام سمیت درجنوں افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، اس موقع پر افراتفری، چیخ و پکار اور ہر طرف خون ہی خون نظر آرہا تھا۔
عینی شاہدین اور تفتیشی حکام کے مطابق خودکش حملہ آور جس کی شناخت اورنگی ٹاؤن کے رہائشی صدیق کے نام سے ہوئی، ابتدائی طور پر اس حملے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔
جب اسے یہ بتایا گیا کہ ہدف جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کا اجتماع ہے تو اس نے انکار کردیا تھا۔
بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حملہ آور کراچی میں بک اسٹال لگاتا تھا۔ دھماکے سے قبل صدیق نے اپنی بہنوں کے نام ایک خط بھی تحریر کیا، جس میں لکھا کہ وہ اللہ کی راہ میں قربان ہونے جا رہا ہے۔
نشترپارک میں دہشت گردی کی یہ واردات اس وقت کی گئی جب جلسے کے شرکاء مغرب کی جماعت سے سلام پھیر کر بیٹھے تھے، اسٹیج کے قریب تیسری یا چوتھی صف میں کھڑے خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اس کی جیکٹ میں تقریباً پانچ کلو بارودی مواد اور بال بیرنگ نصب تھے، دھماکے میں پاکستان سنی تحریک کی مرکزی قیادت سب سے زیادہ متاثر ہوئی اور اس کے کئی اہم رہنما، بشمول عباس قادری، شہید ہوئے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی وزیرستان میں کی گئی تھی، جبکہ اس میں ملوث متعدد دہشت گردوں کو بعد میں گرفتار کرلیا گیا تاہم کئی مرکزی کردار تاحال مفرور ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کا مقصد فرقہ وارانہ فساد بھڑکانا اور مذہبی اجتماعات میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، تاہم کراچی کے شہریوں اور متاثرین نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہر کو بڑے تصادم سے محفوظ رکھا۔
کوئٹہ: خودکش حملے میں 10 افراد جاں بحق، جوابی کارروائی میں 5 دہشتگرد ہلاک


