The news is by your side.

Advertisement

نشوہ کیس پر آواز بلند کرنے کی سزا، اسپتال ملازمین نے اے آر وائی نیوز کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا

دارالصحت اسپتال سیل کرنے کے لیے ٹیم پہنچ گئی، پولیس کا تمام نامزد ملزمان گرفتار کرنے کا فیصلہ

کراچی: انجکشن کے اوور ڈوز سے زندگی سے محروم ہونے والی بچی نشوہ کے کیس پر آواز بلند کرنے پر اسپتال ملازمین نے اے آر وائی نیوز کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق نشوہ کیس پر انصاف پر مبنی کارروائی کے لیے آواز بلند کرنے پر دارالصحت اسپتال کی انتظامیہ کے ایما پر ملازمین نے اے آر وائی نیوز کی گاڑی کا گھیراؤ کر لیا۔

غصے سے بھری ہوئی اسپتال انتظامیہ کی جانب سے نشوہ کیس اٹھانے پر میڈیا نمائندگان کو زد و کوب بھی کیا گیا۔

غیر تربیت یافتہ عملے کے باعث اسپتال کو سیل کرنے کے فیصلے پر غصے میں آنے والی اسپتال انتظامیہ نے پولیس تفتیش میں بھی مداخلت شروع کر دی ہے، پولیس کی تفتیشی ٹیم نشوہ کیس میں 3 ملازمین کو تھانے بھی لائی۔

دوسری طرف دارالصحت اسپتال سیل کرنے کے لیے ٹیم پہنچ گئی ہے، ٹیم میں اسسٹنٹ کمشنر، ہیلتھ کیئر کمیشن کے نمائندے اور پولیس شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نشوہ کی موت: وزیر اعلیٰ سندھ نے دارالصحت اسپتال سیل کرنے کا حکم دے دیا

نشوہ دارالصحت اسپتال میں انجکشن کے اوورڈوز سے جاں بحق ہوئی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے دارالصحت اسپتال سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

دریں اثنا، پولیس نے نشوہ کیس کے تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ملزمان کی گرفتاری کا فیصلہ وزیر اعلیٰ سندھ کے حکم کے بعد کیا گیا۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ آئی جی سندھ و دیگر افسران کے ساتھ آج نشوہ کے گھر پہنچے تھے، انھوں نے نشوہ کے والد کو تمام ملزمان کی گرفتاری کا یقین دلایا تھا، وزیر اعلیٰ نے آئی جی کو موقع پر تمام ملزمان کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے۔

یہ بھی پڑھیں:  ننھی نشوہ کی موت : اسپتال پر صرف پانچ لاکھ روپے جرمانہ، دو ملازمین ذمہ دار قرار

آئی جی سندھ نے کہا کہ قیصر علی نے جن ملزمان کو نامزد کیا ہے انھیں جلد از جلد گرفتار کریں گے۔

واضح رہے کہ اسپتال کے مالک عامر چشتی اور علی فرحان بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں، ان کے علاوہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر شہزاد عالم، چیف میڈیکل آفیسر شرجیل، نرسنگ ہیڈ رضوان اعظمی اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ احمر عباس، ہیڈ آف ایچ آر عرفان اسلم، ہیڈ آفس اسٹاف، ٹرانسپورٹ ولید کے نام بھی شامل ہیں، جب کہ ثوبیہ اور معیز پہلے سے ہی گرفتار ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں