اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

نظامُ الملک طوسی: اسلامی دنیا کی سیاسی تاریخ کا ایک ہیرا

اشتہار

حیرت انگیز

تاریخِ عالم میں مسلمان حکم رانوں کے دربار کی نہایت قابل و باصلاحیت شخصیات میں سلجوقی دور کے نظامُ الملک طوسی کا نام بڑی اہمیت رکھتا ہے اور ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ اس کی وجہ اصلاح و بہبودِ عامّہ کے کئی کام اور ان کے زیر نگرانی عسکری نظام کی بہتری اور انتظامی امور ہیں۔

نظامُ الملک طوسی کا پورا نام ابوعلی حسن ابن علی بن اسحاق تھا جو سلجوق خاندان کے سب سے مشہور بادشاہ ملک شاہ سلجوق کے وزیرِ اعلیٰ یا معتمد خاص تھے۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔ مشہور مؤرخ فلپ کے ہیٹی ان کے بارے میں لکھتے ہیں، ’’یہ اسلام کی سیاسی تاریخ کا ایک ہیرا ہے۔‘‘ ایک اور تاریخ داں امیر علی نے طوسی کو یحییٰ برمکی کے بعد دوسرا قابل ترین ایشیائی منتظم قرار دیا۔

کہا جاتا ہے کہ سلجوقی حکومت میں تین ہم مکتب مشہور ہوئے۔ یہ نظام الملک طوسی، عمر خیام اور حسن بن صباح تھے۔ نظام الملک نے حکومتی سطح پر اعلیٰ خدمات اور تعلیم و ادب کو فروغ دیا۔ عمر خیام نے شعر و ادب اور علم جغرافیہ و ارضیات کے ماہر کی حیثیت پائی اور حسن بن صباح کو اگرچہ اس کی نام نہاد جنّت اور ایک فرقہ کا بانی کہا جاتا ہے، مگر اسے بھی تاریخ کے صفحات میں جگہ دی گئی ہے۔ اکثر مؤرخین کا مذکورہ بات پر اختلاف ہے، مگر یہ کئی جگہ پڑھنے کو بھی ملتا ہے۔

نظامُ الملک طوسی 10 اپریل 1018ء کو طوس کے قریب رد خان نام کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد غزنوی حکومت میں سرکاری محکمہ کے ملازم تھے۔ طوسی نے سلجوق شہزادے الپ ارسلان کے پاس 1054 میں ملازمت اختیار کر لی۔ الپ ارسلان کی تخت نشینی کے بعد وہ اپنی ذہانت اور لیاقت کے سبب وزیر مقرر ہوئے۔ وقت گزرا تو ان کا شمار بادشاہ کے نہایت خاص اور قریبی وزیر کے طور پر ہونے لگا۔ وہ ارسلان کے ساتھ ہر مہم اور ہر سفر میں شریک رہے۔ الپ ارسلان نے طوسی کو فوجی مہمات اور جنگ کے دوران سربراہی بھی سونپی اور کام یابیوں پر سراہا۔ منزگرد اور استغر کی مہم نظام الملک طوسی کی سربراہی میں سَر ہوئی تھی۔ سلجوقی حکومت میں لگ بھگ بیس سال نظام الملک طوسی نے مکمل اختیارات کے ساتھ منظم و مؤثر انداز میں انتظام چلایا۔ ان کا بڑا کارنامہ مختلف شعبوں خصوصاً درس و تدریس کے شعبہ کے لیے خدمات سمجھی جاتی ہیں‌۔ مؤرخین کے مطابق سلجوق حکومت کے نظم و نسق اور ریاست کے استحکام کے پس پردہ دراصل نظام الملک طوسی ہی تھا جس نے اپنی ذہانت، صلاحیت اور مہارت سے خوب کام لیا۔ انہی کی تجاویز اور اقدامات کے باعث مملکت میں امن وامان اور خوش حالی تھی۔

مؤرخین نے انھیں طبعاً خوش مزاج اور ہنس مکھ لکھا ہے لیکن مشہور ہے کہ وہ انتظامی امور میں سخت گیر تھے اور سرکاری عمال کو غفلت کا مرتکب پاتے تو درگزر نہیں‌ کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر شعبہ میں بہتری نظر آتی تھی اور افسران اپنی ذمہ داری پوری کرتے تھے۔ انھیں علم و ادب کا رسیا اور عالموں، ادبا و شعرا کا قدر دان کہا جاتا ہے۔ طوسی نے 1066 میں اسلامی دنیا کی پہلی عظیم نظامیہ یونیورسٹی نیشا پور میں قائم کی۔

ایک اہم کتاب جو طوسی سے منسوب ہے وہ حکومت کے انتظامی امور، رموزِ مملکت اور سیاسی داؤ پیچ سکھاتی ہے جس کے پچاس ابواب ہیں اور تاریخی نوعیت کی اس کتاب کا نام ’’سیاست نامہ‘‘ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طوسی نے 1091ء میں یہ کتاب تحریر کی تھی جس میں ان کے ذاتی تجربات اور مشاہدات شامل ہیں۔ نظام الملک طوسی کی معاشرتی، سماجی، دینی اور مذہبی سطح پر بعض اصلاحات نے مسلمانوں کو اس دور میں بہت فائدہ پہنچایا۔ تاریخ دانوں کے مطابق نظام الملک کا ایک اور بڑا کارنامہ ملک بھر میں خصوصاً سیاسی، انتظامی اور عسکری میدان میں جاسوسی و مخبری کے نظام کو رائج کرنا تھا اور انھوں نے اسے اپنے وقت کے اعتبار سے عصری خطوط پر استوار کیا تھا۔

نظام الملک طوسی کو 14 اکتوبر 1092ء کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ ایک سفر پر تھے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں