The news is by your side.

آسمان میرے لیے کبھی اہم نہیں رہا!

جب میں نے شعر لکھنے شروع کیے، اسی وقت سے آگ کی چوری میرا مشغلہ رہی ہے۔

میں نے پرومیتھیوس کی طرح آسمانی آگ نہیں چُرائی۔ اس لیے کہ آسمان میرے لیے کبھی اہم نہیں رہا۔ مجھے تو ارضی آگ سے دل چسپی ہے، انسانوں کے وجدان اور ان کے لباس میں آگ روشن کرنا میرا جنون ہے۔

میرا ایمان ہے کہ شاعری سوکھے جنگل میں ماچس کی تیلی جلانے کا عمل ہے۔ جنگل جب کہ وہ شعلہ بار ہو تو زیادہ خوب صورت ہوجاتا ہے۔ جب اس کی تمام شاخیں شمع دان کا روپ دھار لیتی ہیں۔ اسی وجہ سے دورنمات (Friedrich Dvrrenmatt) کا قول کہ "شاعری الفاظ کے ذریعے دنیا کی تسخیر ہے۔”، خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

تسخیر کے بغیر شعر کا کوئی وجود نہیں۔ یہاں پر تسخیر سے مراد اُس پردے کو چاک کرنا ہے جس کے گرد الفاظ، گزرتے زمانے کے ساتھ، افکار اور جذبات جالے بُن دیتے ہیں۔ یعنی شاعری کو عادت و معمول کی دنیا سے نکال کر دنیائے حیرت میں لانا ہے۔ شاعر کی عظمت کا اندازہ اس کی حیرت پیدا کرنے کی قدرت سے لگایا جانا چاہیے۔

حیرت عامیانہ شاعری کے نمونوں کے آگے جو وقت گزرنے کے ساتھ ازلی قانون کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں، سَر تسلیم خم کرنے سے نہیں پیدا ہوتی، بلکہ یہ تو ان سے بغاوت کرنے، انھیں مسترد کرنے اور خیر باد کہہ دینے سے پیدا ہوتی ہے۔

شاعری کسی منتظر کا انتظار نہیں بلکہ یہ غیر منتظر کا انتظار ہے۔ یہ ایک آنے والے کا ایسا وعدہ ہے جو ایفا نہیں ہونا، اور ایسا آنے والا ہے جسے نہیں آنا۔ شاعری فرشِ پیادگاں پر چلنا نہیں کہ وہ تو بنایا ہی اسی لیے جاتا ہے، نہ ہی یہ صوتی اشاروں کی پیروی ہے۔ اس کی پیش قدمی تو نامعلوم، وجدانی اور مہمات سے بھرپور راستوں پر ہوتی ہے۔

میرے خیال میں شاعری ایک انقلابی عمل ہے جس کی منصوبہ بندی اور نفاذ ایک غضب ناک انسان کرتا ہے، اور یہ انسان در پردہ صورتِ عالم میں تغیر چاہتا ہے۔ اگر شاعری کرۂ ارض کی پرت میں ہیجان اور دنیا اور انسان کے نقشے میں تغیر پیدا نہ کرسکے تو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ میں شاعری اسے ہی سمجھتا ہوں جو متحرک ہو، یعنی ساکن زبان، ساکن کتب، اور اشیا کے ساکن تاریخی تعلقات میں ایک حرکتِ مسلسل۔

(مشہور عربی شاعر نِزار قَبانی کی یاداشتوں پر مبنی کتاب سے اقتباس جس کے مترجم ابو عمش ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں