The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کی جانب سے کلبھوشن تک رسائی کا بھارتی مطالبہ مسترد

اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک رسائی کے بھارتی مطالبے کو ایک بار پھر مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی درخواست پر بھارتی ہائی کمشنر اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں بھارتی ہائی کمشنر نے کلبھوشن تک رسائی کا مطالبہ دہرایا۔

بھارتی ہائی کمشنر گوتم بمبا والا نے کلبھوشن یادیو سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل اور درخواست پیش کی۔ یہ اپیل اور درخواست کلبھوشن یادیو کی ماں کی جانب سے جمع کروائی گئی۔

تہمینہ جنجوعہ نے معاملے پر پاکستانی مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 2008 کے دو طرفہ معاہدے کے تحت جاسوس تک رسائی نہیں دی جاسکتی۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کی واپسی کے لیے مختلف آپشنز پر غور

سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہا تھا۔ کلبھوشن کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔

انہوں نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن جاسوسی، دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا اعتراف کر چکا ہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے متعلق درخواست باضابطہ طور پر جمع کروا دی ہے تاکہ اسے جلد سے جلد رہا کیا جاسکے۔

ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کلبھوشن دہشت گرد ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں ایسے لوگوں کو رہا کردیا جانا چاہیئے؟ جس پر گوتم بمبا والا سوال کا جواب دیے بغیر وہاں سے روانہ ہوگئے۔

یاد رہے کہ 10 اپریل کو بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔ کلبھوشن کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے پاکستان میں جاسوسی، انتشار پھیلانے پر سزا سنائی گئی۔

کلبھوشن کا مقدمہ آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں چلایا گیا تھا۔

سزائے موت کے اعلان کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے گیڈر بھبھکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کلبھوشن کی سزا کے فیصلے کے نتائج پر غور کرلے۔ دونوں ممالک کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اس کا بھی جائزہ لے۔

بھارتی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان دو طرفہ تعلقات کو پیش نظر رکھ کر کلبھوشن یادیو کے معاملے پر آگے بڑھے ورنہ سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں