The news is by your side.

Advertisement

پاکستان جانے کا فوری کوئی ارادہ نہیں، چند روز میں فیصلہ کروں گا، پرویز مشرف

دبئی: سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان جانےکا فی الحال کو ئی ارادہ نہیں اس حوالے سے چند دنوں میں فیصلہ کروں گا۔

خلیجی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے صحافی نے پرویز مشرف سے وطن واپسی سے متعلق سوال کیا جس کو سابق صدر نے کروڑوں ڈالر کا سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی واپسی کے محرکات پر ابھی غور کررہا ہوں، وطن جانے یا نہ جانے کا فیصلہ آئندہ چند روز میں کروں گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال عمران خان کو کوئی سپورٹ مل رہی ہے کیونکہ ادارے کی اپنی پسند یا ناپسند ہوتی ہے، نواز شریف اور آصف علی زرداری نے ماضی میں ملک مخالف اقدامات کیے جس کی وجہ سے انہیں حلقوں میں پسند نہیں کیا جاتا۔

ریحام خان کی نئی آنے والی کتاب کے حوالے سے پرویز مشرف نے اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی سابق اہلیہ مسلم لیگ ن کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں، واٹس ایپ سے ریحام کی کتاب سے متعلق  جوکچھ معلوم ہوا اچھا نہیں، کوئی بھی ہو اُسے نجی معاملات سے متعلق کتاب نہیں لکھنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کی پرویزمشرف کو وطن واپسی کیلئے کل دوپہر 2 بجےتک کی مہلت

بھارت کے ساتھ تعلقات کے سوال پر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے دورِ حکومت میں بھارتی وزرائے اعظم واجپائی اور من موہن سنگھ پرواضح کیاتھادونوں ممالک میں امن برابری کی بنیادپرہوناچاہئے۔

واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں پرویز مشرف کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، جس کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مشرف کل دوپہر 2 بجے تک عدالت میں پیش ہوں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کردیا جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے ہی وضع کرچکی کہ واپسی کے لیے مشرف کی شرائط کے پابند نہیں، سابق صدر واپس آئیں گے تو انہیں تحفظ دے سکتے ہیں مگر اس گارنٹی کو سپریم کورٹ لکھ کر دینے کی پابند نہیں ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ مشرف کمانڈو ہیں تو پاکستان آکر دکھائیں اور سیاستدانوں کی طرح میں آرہا ہوں کی گردان مت کریں، مشرف نہ آئے تو کاغذات کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں