یرغمال عملے میں آرمی چیف کا کوئی رشتہ دار نہیں، آئی ایس پی آر -
The news is by your side.

Advertisement

یرغمال عملے میں آرمی چیف کا کوئی رشتہ دار نہیں، آئی ایس پی آر

راولپنڈی : آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں یرغمال ہونے والے عملے کے ارکان میں آرمی چیف کا کوئی رشتہ دار موجود نہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کے صوبے لوگر میں پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے دوران یرغمال ہونے والوں میں آرمی چیف کا کوئی رشتہ دار موجود نہیں ہے ۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یرغمال عملے کے ارکان میں آرمی چیف کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے،اس سے متعلق آنے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کی زندگی بہت قیمتی ہے، یرغمالیوں کی جلد بازیابی کے لیے بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں۔

دو روز قبل پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کو فنی خرابی کے باعث افغانستان میں کریش لینڈنگ کرنی پڑ گئی تھی جس کے بعد افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی عملے کو تحویل میں لے لیا گیا ہے تاہم افغان طالبان نے پاکستانی ہیلی کاپٹر کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔


لاپتا ہیلی کاپٹر، افغان حکومت سے مدد کی باضابطہ درخواست


گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹیلیفون کیا اور لوگر میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے پاکستانی ہیلی کاپٹر کے عملے کی جلد اور بحفاظت واپسی پر بات چیت کی۔


پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کی افغانستان میں ہنگامی لینڈنگ


واضح رہے کہ پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر ایم آئی 17 جمعرات کی صبح 8بج کر 45منٹ پر پشاور سے ازبکستان جانے کے لیے روانہ ہوا تھا راستے میں افغانستان کے اوپر سے گزرتے ہوئے فنی خرابی کے سبب اسے ہنگامی طور پر افغان صوبے لوگر میں لینڈ کرنا پڑا۔

ہنگامی لینڈنگ کے دوران پائلٹ اور عملے سمیت ساتوں افراد ہنگامی لینڈنگ میں محفوظ رہے لیکن طالبان نے ہیلی کاپٹر میں موجود سات افراد کو یرغمال بنالیااور ہیلی کاپٹر نذر آتش کردیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں