The news is by your side.

Advertisement

عدالت کا گوسوامی کو ریلیف دینے سے انکار، جیل بھیج دیا

متنازع بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کو عدالت نے عبوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

ری پبلک ٹی وی کے ارنب گوسوامی کو 2 سال پرانے خود کشی کے مقدمے میں گزشتہ روز ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اس کیس کی تحقیقات حال ہی میں دوبارہ کھولی گئی ہیں۔

ارنب گوسوامی کو آج مقامی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تو پولیس نے عدالت سے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا۔

گوسوامی نے ضمانت کے لیے ممبئی ہائیکورٹ سے رجوع کیا تو عدالت عالیہ نے عبوری ریلیف دینے سے انکار کردیا اور کیس کو جمعہ کی دوپہر تین بجے سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔

عدالت نے کہا کہ اس معاملے کو تفصیل سے سننا چاہتے ہیں اس لیے عبوری ضمانت نہیں دے سکتے۔2 رکنی بینچ نے اینکر کی عبوری ضمانت کو مسترد کر دیا۔ ریلیف نہ ملنے پر گوسوامی کو آج رات جیل میں ہی گزارنا ہوگی۔

بھارتی اینکر کو 2018 میں 53 سالہ انٹیریئر ڈیزائنر انوئے نائک اور ان کی والدہ کو خود کشی پر اکسانے کا مبینہ الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اینکر سے ان کے اسٹوڈیو کو ڈیزائن کرنے والے آرکٹیکٹ کی موت میں مبینہ کردار کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

متنازعہ بھارتی اینکر ارنب گوسوامی گرفتار ہو گئے

انوئے نائک نے دو سال قبل اپنی جان لی تھی جس پر ان کی بیوی نے الزام لگایا کہ ارنب گوسوامی نے ان کی فیس ادا نہیں کی تھی، تاہم گوسوامی نے الزام کو مسترد کیا۔

انوئے نائک نے علی باغ کے گھر میں خودکشی کے وقت ایک نوٹ بھی چھوڑا تھا جس میں انھوں نے موت کا ذمہ دار گوسوامی کو قرار دیا تھا۔
دوسری طرف متعدد وزرا کی جانب سے اس گرفتاری کو پریس کی آزادی پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے، مہاراشٹر کے وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر نے اسے ایمرجنسی کی یاد دہانی قرار دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں