The news is by your side.

Advertisement

کوئی مائی کا لعل اسلام آباد بند نہیں کرسکتا، فضل الرحمان

پشاور: جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پانامالیکس کا کیس عدالت میں موجودہونے کے باوجود کچھ جماعتیں وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

پشاور پیغام امن کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے خطاب کیا جس میں انکا کہنا تھا کہ دھرنے دینے والے سوجچ لیں کہ پاناما لیکس کا معاملہ کورٹ میں ہے تو اب دھرنا کس چیز کا اور اگر اب بھی وہ دھرنا چاہتے ہیں تو وہ دھرنا نواز شریف کے خلاف نہیں بلکہ سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہوگا۔

پڑھیں: اسلام آباد دھرنا، مرکزی قائدین کو نظر بند اور کارکنان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

 مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف اور اُن کی حامی جماعتوں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ ’’کسی کا باپ اور کوئی مائی کا لعل اسلام آباد بند نہیں کرسکتا، جتنی تیزی سے لوگ وفاقی دارالحکومت کی طرف جائیں گے اُس سے زیادہ تیزی سے واپسی ہوگی، اسلام آباد جانے والوں کو الٹے پاؤں بھاگنا ہوگا‘‘۔

اسے سے متعلق: عمران خان کا سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے کوئٹہ روانگی کا فیصلہ

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے سفر کو اب کوئی سبوتاژ نہیں کرسکتا کیونکہ اب عوام اور سیاسی جماعتیں اس کے ثمرات سے بخوبی واقف ہیں تاہم اسلام آباد بند کرنے والوں لوگوں کے بلبلوں اور غباروں کے لیے سوئی کی نوک ہی کافی ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد پرچڑھائی کسی صورت نہیں کرنے دیں گے، رانا ثناء اللہ

 انہوں نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے صوبے کی حکومت اور خیبر لیکس پر پی ٹی آئی عدالت کیوں نہیں جاتی؟ فضل الرحمان نے کہا کہ 9/11 کے بعد ملک اور عالمی حکمرانوں کے کہنے پر دہشت گردی کے خلاف کیے گئے آپریشنز کا کیا نتیجے نکلا؟‘‘۔

مولانا فضل الرحمان نے سانحہ کوئٹہ، اے پی ایس سمیت دہشت گردی کے تمام واقعات پر حکومت کو سوچنے اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں