The news is by your side.

Advertisement

طیارہ حادثے کی ذمہ داری کسی پر نہیں ڈالی گئی، وفاقی وزیر ہوابازی

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے شہری ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ طیارہ حادثے پر کسی کی غلطی یا کوتاہی کا کوئی تعین نہیں ہوا، حادثے کی کسی پر بھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔

سول ایوی ایشن کی حادثے سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انٹرنیشنل ایئر ایکسڈنٹ اور پاک فضائیہ افسران تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ہیں،11رکنی ٹیم میں ایئر بس ، انجن اور ان کے سی اےاےکےلوگ بھی ہیں، 97معصوم جانوں کا ضیاع ہوا،کسی کی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا لیکن قبل ازوقت کوئی ایسی بات کرکے کسی کی دل آزاری نہ کی جائے، ماہرانہ رائے اور انکوائری رپورٹ آنے تک کوئی مؤقف نہیں دیناچاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فی الحال طیارہ حادثے پر کسی کی غلطی یا کوتاہی کا کوئی تعین نہیں ہو سکا، حادثے کی کسی پر بھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی، کپتان کا 25سالہ تجربہ تھا اس سے ماضی میں کبھی غلطی نہیں ہوئی، طیارہ حادثے کی انکوائری مکمل ہونے سے پہلے کوئی رائے نہیں دی جاسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ، کپتان کی خلاف ورزیوں پر مبنی رپورٹ تیار

غلام سرور نے استعفیٰ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ مجھ سے استعفیٰ مانگا گیا نہ ہی میں نےایسی پیشکش کی اور نہ کسی کا مطالبہ تھا، طیارہ حادثہ انکوائری کےبعد ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا سوچا جاسکتاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی صورتحال کے باعث معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوئی، کورونا سے پہلے پی آئی اے کا خسارہ 4بلین سے کم کرکے ایک بلین پر لائے، کوروناکی صورتحال کی وجہ سے پی آئی اے کا خسارہ دوبارہ بڑھ گیا ہے بدقسمتی ہے کہ ہمارے قوانین میں بہت سی خامیاں موجود ہیں، کئی 100روڈ حادثے ہوئے اور کئی اموات ہوئیں مگر سزا نہیں ہوتی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں