کراچی (11 جنوری 2026): کراچی کے باغ جناح میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جلسہ نہ ہو سکا جس سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے خطاب کرنا تھا۔
سہیل آفریدی نے قافلے کے ہمراہ کراچی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ نمائش چورنگی پر مختصر خطاب کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی روانہ ہوگئے جبکہ ان جانے کے بعد کارکن بھی منتشر ہوگئے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے نمائنش چورنگی پر کارکنوں سے مختصر خطاب میں کہا کہ جلسہ خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور ساتھ پولیس گردی بھی کی گئی، لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو کراچی میں جلسے کی مشروط اجازت مل گئی
پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی رش کی وجہ سے جلسہ گاہ نہیں گئے اور نمائش پر ہی خطاب کیا۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے باغ جناح میں جلسہ کرنے کی مشروط اجازت دی تھی جبکہ پی ٹی آئی نے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ این او سی دیر سے ملا جس کے باعث تیاریاں نہیں کر سکتے۔
پی ٹی آئی مزار قائد کے گیٹ کے سامنے سڑک پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم سندھ حکومت نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایکشن لینے سے خبردار کیا تھا۔
آج وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کارکنوں سے کہا کہ ریلی کی صورت میں باغ جناح پہنچ رہے ہیں، عوام جلسہ گاہ پہنچے جلسہ ہو کر رہے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ سندھ کے عوام نے عزت دی لیکن سندھ حکومت نے ٹوپی اجرک کی لاج نہیں رکھی، باغ جناح آنے جانے والے راستے بند کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا تھا کہ ان شاء اللہ آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا، یہ جلسہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن جلسہ تو ہوگا، بلدیہ ٹاؤن جا رہے ہیں وہاں سے پھر بنارس چوک جائیں گے، گولیمار اور پھر گرومندر سے ہوتے ہوئے مزار قائد پہنچیں گے۔


