The news is by your side.

Advertisement

‘عدم اعتماد 172 سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گی’

سابق صدر و چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ 172 سے زائد ووٹوں سے تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی، پارلیمان میں موجود بہت سے دوست رابطے میں ہیں کیا ان سب کے نام بھی بتا دوں۔

اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں آصف علی زرداری، شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحریک عدم اعتماد بھرپور انداز میں کامیاب ہو گی۔

آصف زرداری نے کہا کہ جمہوریت میں کسی کوحق نہیں پہنچتاکہ کسی کی زبان بندکرے ہمارے دور میں بھی مجھ پر الزامات لگےمیں نےبرداشت کیا اپوزیشن کےدوستوں نےسوچااب نہیں توکبھی نہیں ایساسلسلہ چل رہا تھا کہ ہم نےکہا مزیدبگڑےگاکوئی بنابھی نہیں سکےگا۔

انہوں نے کہا کہ مشاورت کے بعد فیصلہ کیاکوئی پارٹی تنہامسائل سےنہیں نکال سکتی مل کر کام کیا، ان دوستوں کو بھی مدعوکریں گے جو ہم سےدورہیں آنےوالی نسلوں کوموجودہ مشکل سےآزادی دلائیں گے ہم سب مل کر آنے والی نسلوں کوموجودہ مشکل سےآزادی دلائیں گے۔

سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتمادمیں172سےزیادہ ووٹ لیں گے یہ چاہتےمیں ان کوتعدادبتادوں کیا نام بھی بتادوں ان کےلوگ ان سےناراض ہے،حلقوں میں کیاجواب دیں گے ماضی میں اسٹیبلشمنٹ میرے خلاف تھی پھر بھی تحریک ناکام کی غلام اسحاق نےہماری حکومت ختم کی لیکن اب میں نےصدرکےپاس اختیار ہی نہیں چھوڑا۔

مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت کیساتھ کھڑےہیں،اداروں سےکوئی اختلاف نہیں ہم نے بندوق نہیں اٹھائی بندوق کی سیاست کو رد کیا ہے ہم نے ملک کو آگے لےکر جانا ہے ملکی مفادکیساتھ کھڑے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و صدر مسلم لیگ ن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل ہماری پی ڈی ایم میں مشاورت ہوئی کل ہم نے فیصلہ کیا کہ تحریک عدم اعتماد کی قراردادجمع کرائیں گے قرارداد،ریکوزیشن کیلئے تمام پارٹیز نے اپنے ممبران سے دستخط لئے پیپلزپارٹی اورجےیوآئی اورن لیگ ایک پیج پرہیں آج تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کرنے کا ارادہ کیا اگر مزید تاخیر کی تونہ ہمیں خدامعاف کرےگانہ عوام۔

شہبازشریف نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی قراردادکی ضرورت کیوں پڑی اس پر بات کریں گے سلیکٹڈ وزیراعظم نے ملک کیساتھ جو کچھ کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، بےروزگاری نے ملک میں بصیرے کر رکھے ہیں عام آدمی کیلئے اپنا جسم بحال رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں