The news is by your side.

Advertisement

نوبل انعام یافتگان کی دنیا کو بڑے خطرے کی وارننگ

روس یوکرین جنگ کے تنازع میں نوبل انعام یافتگان بھی کود پڑے ہیں اور انہوں نے دنیا میں خونی لہر کے دوڑنے کا انتباہ دیا ہے۔

روس یوکرین کی جاری جنگ کو ایک ماہ ہونے کے قریب ہے اور اب اس تنازع میں نوبل انعام یافتگان بھی کود پڑے ہیں اور انہوں نے دنیا کے نام اپنے پیغام میں اس جنگ کے نتیجے میں دنیا میں خونی لہر کے دوڑنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

یوکرین سے اظہار یکجہتی کرنے والے 203 نوبل انعام یافتہ شخصیات نے اپنے دستخطوں سے خط جاری کیا ہے جس میں یوکرینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے یوکرین پر مہلک جنگ تھوپے جانے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

نوبل انعام یافتگان افراد نے اپنے خط میں روس کے یوکرین پر حملے کو 1939 میں پولینڈ پر نازی جرمنی کے بدنام زمانہ حملے سے تشبیہہ دی ہے اور کہا ہے کہ صدر پیوٹن کی قیادت میں روسی فیڈریشن کی حکومت نے بلا اشتعال فوجی جارحیت شروع کی ہے۔

ہم ان فوجی کارروائیوں اور روسی صدر کے یوکرین کے وجود کے جواز سے انکار کی مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تنازعات کو حل کرنے کا ہمیشہ پرامن طریقہ ہوتا ہے۔ روسی حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے، یہ 1994 کے بڈاپسٹ میمورنڈم کو نظر انداز کرتا ہے، جس نے روس اور دیگر کو یوکرین کی خودمختاری، آزادی اور موجودہ سرحدوں کا احترام کرنے کا پابند کیا تھا۔ روس کے سیکورٹی خدشات کو اقوام متحدہ کے چارٹر 1975 کے ہیلسنکی فائنل ایکٹ اور 1990 کے پیرس چارٹر کے فریم ورک کے اندر حل کیا جا سکتا ہے۔

جنگ کرنا مستقبل کے لیے ایک غیرضروری اور خونی لہر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ روسی حملہ آنے والی دہائیوں تک روسی ریاست کی بین الاقوامی ساکھ کو داغدار کر دے گا۔ یہ اس کی معیشت میں رکاوٹیں کھڑی کرے گا اور اس کی آبادی کو مشکلات سے دوچار کرے گا۔

اس جنگ کے دوران سیکڑوں یوکرینی اور روسی فوجی اور یوکرینی شہری جن میں بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ بہت افسوسناک ہے، ہم مشترکہ طور پر روسی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین پر اپنے حملے کو روکے اور اپنی فوجی افواج کو یوکرین سے نکالے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں