The news is by your side.

Advertisement

ادب کا نوبل انعام تنزانیہ کے ناول نگار عبدالرزاق گُرناہ نے حاصل کر لیا

ادب کا نوبل انعام تنزانیہ کے ایک 73 سالہ ناول نگار عبدالرزاق گُرناہ کے نام رہا۔

تفصیلات کے مطابق سویڈش اکیڈمی آف نوبل پرائز نے سال 2021 کا ادب کا نوبل انعام تنزانیہ کے ادیب عبدالرزاق گرناہ کو دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

تنزانوی نژاد برطانوی مصنف عبدالرزاق نے دس ناول لکھے ہیں، گُرناہ نے نو آبادیاتی افریقا کے مسائل اور دنیا پر نو آبادیاتی نظام کے اثرات کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا، انھوں نے 21 برس کی عمر میں انگریزی میں لکھنا شروع کیا تھا، تاہم ان کی مادری زبان سواحلی تھی۔

نوبل پرائز کمیٹی کے مطابق عبدالرزاق کو، تہذیبوں پر نوآبادیات کے اثرات اور پناہ گزینوں کے ساتھ مختلف براعظموں میں پیش آنے والے مصائب کو، انتہائی آسان الفاظ میں بیان کرنے کی وجہ سے ادب کے نوبل انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔

گُرناہ زنجبار جزیرے میں 1948 میں پیدا ہوئے، اور 1960 کی دہائی کے آخر میں پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ ہجرت کر گئے، انھوں نے برطانیہ ہی میں تعلیم حاصل کی اور وہیں ملازمت بھی اختیار کی، وہ یونیورسٹی میں ادب کے پروفیسر تعینات ہوئے۔ ریٹائرمنٹ سے قبل وہ یونیورسٹی آف کینٹ، کینٹربری میں انگریزی اور پوسٹ کالونیل لٹریچر کے پروفیسر تھے۔

عبدالرزاق کے دس ناول اور مختصر کہانیوں کی کتابیں شائع ہو چکی ہیں، ان کا سب سے مشہور ناول ’پیراڈائز‘ 1994 میں شائع ہوا، جسے بکر پرائز کے لیے بھی نامزد کیا گیا، 2001 میں شائع ہونے والے ان کے ناول ’بائے دی سی‘ نے لوگوں کی توجہ مہاجرین کے مسائل کی جانب مبذول کروائی۔

نوآبادیاتی دور میں پیدا ہونے والے تنزانیہ کے اس ناول نگار نے انگریزی میں ادب لکھا، اور ان کے موضوعات مہاجرین کے مسائل، جنگیں، غربت، ثقافتوں پر نوآبادیات کے اثرات جیسے موضوعات رہے، وہ تنزانیہ کے پہلے ادیب ہیں جنھیں نوبل انعام دیا جا رہا ہے۔

عبدالرزاق کو رواں برس دسمبر میں نوبل انعام دیا جائے گا، انھیں تقریباً 11 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم بھی ملے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں