The news is by your side.

Advertisement

این اے 53 سے عمران خان، گلالئی اور خاقان عباسی کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد

میانوالی این اے 95 سے بھی عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردیے گئے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور عائشہ گلالئی کے کاغذاتِ نامزدگی این اے 53 سے مسترد کردیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی نامکمل بیانِ حلفی کے باعث مسترد کیے گئے، ریٹرننگ افسر نے فیصلے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بیان حلفی نامکمل ہے۔

فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین کے کاغذاتِ نامزدگی میں بیان حلفی درست طریقے سے پُر کر کے جمع نہیں کرایا گیا ہے۔

دوسری طرف قومی اسمبلی کے اسی حلقے سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور پاکستان تحریک انصاف گلالئی کی چیئر پرسن عائشہ گلالئی کے کاغذات بھی مسترد کردیے گئے۔

حلقہ این اے 53 سے عائشہ گلالئی اور عبد الوہاب بلوچ کے اعتراضات کو ریٹرننگ آفیسر نے مسترد کیا، اسی حلقے سے مہتاب عباسی کے کاغذات بھی مسترد ہوئے ہیں۔

عمران خان کا قومی اسمبلی کے لیے 5 حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان


خیال رہے گزشتہ روز حلقہ این اے 53 سے عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے پر ایڈووکیٹ رائے تجمل نے انھیں رد کردیا تھا۔

عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ کے موقع پر بابر اعوان خود ریٹر ننگ آفیسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے بلکہ ان کے معاون رائے تجمل عمران خان کی دستاویزات سمیت پیش ہوئے تھے۔

الیکشن 2018: امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا آج آخری روز


مذکورہ حلقے سے چوہدری نثار علی خان نے تحریکِ انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے جس کے نتیجے میں وہ اس حلقے سے دست بردار ہوچکے ہیں۔

این اے 95 سے بھی عمران خان کے کاغذات مسترد


میانوالی این اے 95 سے بھی عمران خان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردیے گئے ہیں، ان کے بیان حلفی کے اسٹامپ پیپرز میں تاریخوں میں رد و بدل تھی، جس کے خلاف جسٹس ڈیمو کریٹو پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے درخواست دائر کر رکھی تھی۔

واضح رہے کہ الیکشن 2018 کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا آج آخری روز ہے ، جب کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جانچ پڑتال کا وقت بڑھانے کی کوئی تجویز  زیرِ غور نہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں