The news is by your side.

Advertisement

سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

لاہور : احتساب عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے فرزند سلمان شہباز کو گرفتار کرکے 10 اگست تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کرتے ہوئے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری دئیے۔

نیب لاہور نےسلمان شہباز کی جائیداد ضبطی کی کاروائی کےلیے عدالت سے رجوع کیاہے،نیب نے عدالت کو بتایا کہ منی لانڈرنگ کیس میں سلمان شہباز کو6 دفعہ کال اپ نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ سلمان شہباز نے نیب انوسٹی گیشن جوائن نہیں کی، چیئرمین نے گرفتاری کےلیے وارنٹ جاری کررکھے ہیں۔

نیب نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ سلمان شہباز ملک سے باہر فرار ہوچکے ہیں، عدالت سلمان شہباز کی جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دے۔

یاد رہے کہ نیب نے 25 اکتوبر 2018 کو سلمان شہباز کو طلبی کا نوٹس بھیجا تھا، جس میں انھیں 30 اکتوبر کو طلب کیا گیا، لیکن سلمان شہباز نیب پیشی سے 3 دن پہلے ملک چھوڑ کر 27 اکتوبر کو لندن فرار ہو گئے۔

نیب کی جانب سے سلمان شہباز کو 25 اکتوبر کو بھیجے گئے نوٹس میں نیب نے چند سوالات پوچھے گئے تھے، نوٹس میں 2000 سے اب تک غیر ملکی ترسیلات اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیل مانگی گئی تھی۔

نیب نے نوٹس میں ترسیلات بھیجنے والے کا نام، ملک اور رقوم بھیجنے کا مقصد کیا تھا، دریافت کیا تھا، کہا گیا تھا کہ اگر کوئی آف شور کمپنی یا کاروبار ہے تو اس کی تفصیل بھی دیں، 2000 سے اب تک بنائی گئی کمپنیوں اور ڈائریکٹر شپ کی تفصیل بھی مانگی گئی۔

نیب نے نوٹس میں 2000 سے اب تک ڈائریکٹر کی حیثیت سے جس جس کمپنی کو قرضہ دیا اس کی تفصیل، غیر ملکی کمپنیوں سے 2000 سے آنے والی سرمایہ کاری کی سالانہ تفصیل، رقم ٹرانسفر کا طریقہ، کمپنیوں کی تفصیل، منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی قیمت خرید کی تفصیل مانگی گئی تھی۔

سلمان شہباز ملک سے کیوں فرار ہوا؟ پروگرام پاور پلے میں دستاویز پیش

اس کے بعد نیب نے سلمان شہباز کو 19 دسمبر 2018 کو دوسرا نوٹس بھیجا، اس بار نیب نے 12 سوال سلمان شہباز کو بھیجے، جن میں سے 5 نئے سوالات تھے، نوٹس میں ذاتی اکاؤنٹ، رمضان شوگر ملز کے اکاؤنٹ، ٹرانزکشن کی تفصیلات مانگی گئیں، اور 2004 سے 2008 تک ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ مانگی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں