The news is by your side.

Advertisement

بچی اغواء کیس: سینیٹر سرفراز بگٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

کوئٹہ : ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے سینیٹر سرفراز بگٹی کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے اور گرفتار کرکے 24 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے بچی کے اغواء میں معاونت کیس میں سینیٹر سرفراز بگٹی کےناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیےگئے ہیں۔

جج سیون نے پولیس کو سینیٹر سرفراز بگٹی کوگرفتار کرکےعدالت میں 24 جولائی کو پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری نے سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے گرفتاری کے احکامات جاری کئے تھے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے تھے کہ ضمانت بنتی ہوگی تو دیں گے، سرفراز بگٹی کو 6 ماہ سے کسی نے گرفتار نہیں کیا اب کون گرفتار کرے گا جبکہ جسٹس مظہر عالم کا کہنا تھا کہ سرفراز بگٹی با اثر شخص ہیں، کوشش کریں بچی مل جائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر سرفراز بگٹی پر کوئٹہ کے بجلی گھر تھانے میں دفعہ 7519 اور 364A کے تحت اغوا کا مقدمہ گزشتہ ماہ درج کیا گیا تھا، مقدمہ خاتون کی مدعیت میں بچی کے اغوا میں سہولت کاری سے متعلق تھا۔

عدالت میں سرفراز بگٹی کے خلاف درخواست دینے والی خاتون کا مؤقف تھا کہ ان کی بیٹی سحرش کے 2013 میں قتل کے بعد وہ اپنی دس سالہ پوتی ماریہ علی کی کفالت کر رہی تھیں، تاہم 7 دسمبر 2019 کو جب وہ پوتی کو اس کے والد توکل علی بگٹی سے ملانے عدالت لائیں، تو انھوں نے میری پوتی کو اغوا کر کے سرفراز بگٹی کے گھر میں چھپا دیا تھا۔

بعد ازاں 16 جنوری کو کوئٹہ کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 9 سالہ بچی کو زبردستی ساتھ رکھنے کے مقدمے میں سینیٹر سرفراز بگٹی کی عبوری درخواست ضمانت خارج کردی تھی ، جس کے بعد انھیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں