The news is by your side.

Advertisement

رائے جانکی پرشاد: ہندو مسلم تہذیب کا نمائندہ، اردو کا دیوانہ

متحدہ ہندوستان میں اور تقسیم کے بعد سرحدی پٹی کے دونوں اطراف شہروں میں بس جانے والے عالم و فاضل، نہایت قابل اور باصلاحیت لوگوں نے اپنے اپنے شعبوں میں‌ کام جاری رکھا اور بٹوارے سے قبل بلاتفریقِ رنگ و نسل اور مذہب علمی و ادبی میدان میں اپنے ہم عصروں کے کردار اور ان کے کارناموں کا کشادہ دلی سے اعتراف کیا۔

حیدر آباد دکن میں جہاں علم و ادب کے میدان میں مسلمانوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں اور نسلِ نو کے لیے بیش قیمت سرمایہ چھوڑا ہے، وہیں کئی غیر مسلم شخصیات بھی تاریخِ ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ رشید الدین نے ایسی ہی چند نابغہ روزگار ہستیوں کا تذکرہ کیا ہے جن میں سے ایک رائے جانکی پرشاد ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

اردو میں اعلٰی قابلیت کی وجہ وہ دارالترجمہ سے وابستہ ہوگئے تھے۔ قیامِ جامعہ عثمانیہ کے بعد اردو کو علمی درجہ تک پہنچانے کے لیے دارالترجمہ قائم کیا گیا تھا جہاں اردو کے بلند قامت ادبا اور شعرا کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جن میں جوش ملیح آبادی، علامہ عبداللہ عمادی اور بابائے اردو جیسی عظیم المرتبت شخصیتیں شامل تھیں۔

رائے جانکی پرشاد نے ایسی بلند قامت شخصیتوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کو پورا کیا اور علمی اصطلاحات کی تدوین فرمائی۔

رائے جانکی پرشاد ہندو مسلم تہذیب کی نمائندہ شخصیت تھے۔ ان کا لباس ٹوپی، شیروانی اور پاجامہ ہوا کرتا تھا۔ وہ وظیفہ حسنِ خدمت پر علیحدگی کے بعد مختلف سماجی اداروں سے وابستہ ہوئے اور ان کی راہ نمائی کی۔

وہ بڑے صاحب الرائے شخصیت کے حامل تھے۔ حامد نواز جنگ نے جو لا ولد تھے انہی کے مشورے پر اپنے گراں قدر سرمائے سے ایک ٹرسٹ قائم کیا جس سے فنی تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبا کو وظائف جاری کیے جاتے تھے۔ رائے جانکی پرشاد اس ٹرسٹ کے واحد غیر مسلم ٹرسٹی
تھے۔

نواب مہدی نواز جنگ جو اس وقت وزیر طبابت تھے، انہوں نے رائے جانکی پرشاد کے مشورے پر ہی کینسر اسپتال قائم کیا۔ اردو ہال کا قیام بھی موصوف کے گراں قدر مشوروں کا حاصل ہے۔

ان ساری گوناگوں مصروفیات کے باوجود انہوں نے تصنیف و تالیف کا کام بھی جاری رکھا۔ ان کی تصانیف ’’عصر جدید‘‘ ’’ترجمہ کا فن‘‘ اور’’انگریزی اردو ڈکشنری‘‘ اردو ادب میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں