The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ باگا ریڈی کو جانتے ہیں؟

تخلیق کار اپنی تخلیق، محقق اپنی تحقیق اور نقاد اپنی تنقید سے ادب کے گیسو سنوارنے میں مصروف رہتے ہیں۔ باگاریڈی نے اردو بولنے والوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اردو کی گراں قدر خدمت انجام دی۔

راقم کا آندھرا کی تشکیل کے بعد پہلے سب انسپکٹر پولیس، بیاچ 1958 سے تعلق رہا ہے۔ شرائطِ ملازمت کے اعتبار سے تین سال کے عرصہ میں اس بیاچ والوں کو تھرڈ کلاس تلگو زبان دانی کا امتحان پاس کرنا ضروری تھا۔

1959 میں ٹریننگ کے کام یاب اختتام پر راقم کو نظام آباد پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے بعد تین سال تک پبلک سروس کمیشن نے مطلوبہ زبان دانی کا امتحان ہی منعقد نہیں کیا۔ شرائطِ ملازمت کے تحت راقم، سری دھر راؤ اور محمد علی خاں کو ملازمت سے ہٹا دیا گیا۔

باگاریڈی نے بحیثیت صدر انجمنِ تحفظِ اردو ہمارے کیس کو اس وقت کے چیف منسٹر جناب نیلم سنجیوا ریڈی صاحب سے رجوع کیا اور ان کی کام یاب نمائندگی سے تین مہینے میں ہم لوگوں کی بحالی عمل میں آئی۔

باگاریڈی جامعہ عثمانیہ کے فارغ التحصیل تھے۔ وہ ضلع پریشد میدک کے صدر نشین رہ چکے ہیں۔ انہوں نے ظہیر آباد میں ایک ادبی انجمن ’’بزمِ سخن‘‘ قائم کی تھی۔

انھوں نے اردو اکیڈیمی آندھرا پردیش کے صدر کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انھوں نے اردو ویلفیر فنڈ قائم کیا تھا جس سے مستحق اور ضرورت مند قلم کاروں کی مدد کی جاتی تھی۔

ان کے مضامین کا ایک مجموعہ ’’شمع ہر رنگ میں جلتی ہے‘‘ اور دوسری کتاب ’’تلگو زبان اور ادب‘‘ اور تیسری کتاب ’’آندھرا پردیش‘‘ ان کی یادگار ادبی تصانیف ہیں۔

(رشید الدین کے مضمون سے انتخاب جو حیدرآباد دکن کی اُن غیر مسلم شخصیات سے متعلق ہے جو اردو کے شیدا اور اس کے بڑے خدمت کرنے والے رہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں