The news is by your side.

Advertisement

تنخواہوں کی عدم ادائیگی: میر شکیل کی عدم حاضری، سماعت پھر ملتوی

اسلام آباد: جیو اور جنگ کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس میں ادارے کے مالک میر شکیل الرحمٰن آج پھر عدالت میں پیش نہ ہوئے جس کے باعث سماعت ایک بار پھر ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جیو اور جنگ کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں ادارے کے مالک میر شکیل الرحمٰن عدالت کی بار بار طلبی کے باوجود آج بھی پیش نہ ہوئے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میر شکیل کا تکبراتنا ہے کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہوتے۔ میر شکیل نے عدالت کے باہر کہا عدالتی آرڈر بے ہودہ ہے۔ ’تنقید کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے، عدالتوں کو بے ہودہ نہیں کہا جاتا‘۔

انہوں نے کہا کہ میر شکیل آئیں تو بے ہودہ کہنے والی ویڈیو چلائیں گے۔ ’معلوم ہونا چاہیئے عدلیہ کا احترام کیا ہے‘۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میر شکیل ہیں کہاں وہ پیش کیوں نہیں ہو رہے جس پر جیو کے وکیل نے بتایا کہ میر شکیل کے بیٹے میر ابراہیم موجود ہیں جو جیو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں ان کو نہیں جانتا۔

وکیل نے کہا کہ میر شکیل کے پاس چینل کا کوئی عہدہ نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میر شکیل جنگ گروپ کے مالک ہیں، سب جانتے ہیں چینل میر شکیل کا ہے۔ ’مالک ہیں تو ملازمین کو تنخواہیں بھی ادا کریں‘۔

عدالت میں موجود نمائندہ جیو ٹی وی نے بتایا کہ میر شکیل بیمار ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میر شکیل بیمار ہیں تو انہیں اسٹریچر پر لائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میر شکیل نے 3 مرتبہ التوا کی درخواست کی۔ وہ پیش ہو کر وضاحت کریں کہ اسٹاف کو تنخواہ کیوں نہیں دی گئی۔ جنوری کے بعد سے ملازمین کو تنخواہ ادا نہیں ہوئی۔ تنخواہ نہ دی تو قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میر شکیل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا عدالتی حکم ہے ان پر توہین عدالت کا نوٹس کریں گے۔ ان کی وجہ سے تیسری مرتبہ سماعت ملتوی کی جارہی ہے۔

سپریم کورٹ نے میر شکیل کو پیر کے روز ایک بار پھر طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں جیو کے سینیئر اینکر حامد میر نے شکایت کی تھی کہ انہیں 3 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی جس کے بعد چیف جسٹس نے جیو کے مالک میر شکیل الرحمٰن کو طلب کرلیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں