پاکستان کی سابق معروف اداکارہ نور بخاری نے اپنے سابق شوہر عون چوہدری کے ساتھ دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے فیصلے اور شوبز چھوڑ کر مذہبی زندگی اپنانے کے بعد کے تجربات پر کھل کر بات کی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں نور بخاری نے اپنی ذاتی زندگی، شوبز کے دنوں اور زندگی کے مختلف نشیب و فراز پر روشنی ڈالی۔ عون چوہدری کے ساتھ دوبارہ شادی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاپ ان کی زندگی کی منصوبہ بندی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یہ سب تقدیر کا کھیل تھا، اور حالات نے انہیں ایک بار پھر سے ایک کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک بیٹی پہلے سے موجود تھی، جو ان کے دوبارہ ملاپ میں ایک اہم عنصر بنی، اور شوبز چھوڑنے کے بعد عون نے بھی اس رشتے کو بحار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
نور کے مطابق اب ان کے چار بچے ہیں اور وہ اپنی خوشگوار خاندانی زندگی گزار رہی ہیں۔
اپنی سابقہ زندگی کے مشکل دور کو یاد کرتے ہوئے نور نے کہا کہ متعدد شادیوں اور طلاقوں کے تجربات نے انہیں تعلقات اور دین کے بارے میں اہم اسباق سکھائے ہیں۔
انہوں نے محسوس کیا کہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اللہ ہر مشکل وقت میں انسان کے ساتھ رہتا ہے، اور ان کے تجربات نے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے در پر آنے والوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں رہنے کے بجائے اپنے حال پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔
انٹرویو کے دوران خواتین کی دوسری شادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نور کا کہنا تھا کہ اسلام خواتین کو دوبارہ شادی کی اجازت دیتا ہے۔
تاہم انہوں نے بیٹی کی پرورش کے حوالے سے اپنی ذاتی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ خواتین کو دوسری شادی کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لینا چاہیے، اور بعض حالات میں سابق شوہر سے صلح کو بھی ایک آپشن کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
ان کے اس انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں کچھ صارفین نے ان کے تجربات پر کھل کر بات کرنے اور ان کی زندگی کے نئے سفر کو تقدیر کا حصہ قرار دینے پر سراہا ہے، وہیں کچھ لوگوں نے ان کے خیالات پر مخلوط ردعمل کا اظہار بھی کیا ہے۔


