The news is by your side.

Advertisement

ملکہ ترنم نور جہاں‌ کی برسی

آج ملکہ ترنم نور جہاں کی 20ویں برسی منائی جارہی ہے۔ پاکستان کی اس نام وَر گلوکار اور فلمی اداکار کا اصل نام اللہ وسائی تھا۔ وہ محلہ کوٹ مراد خان، قصور میں پیدا ہوئی تھیں۔ انھوں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ پہلی بار کلکتہ میں‌ بننے والی فلم سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تھا۔

1935ء میں ’’شیلا عرف پنڈ دی کڑی‘‘ سے اسکرین پر سفر شروع کرنے والی نور جہاں نے چند مزید فلموں میں کام کرنے کے بعد 1938ء میں لاہور کا رخ کیا جہاں انھیں فلم ساز دل سکھ پنجولی اور ہدایت کار برکت مہرا کی فلم ’’گل بکائولی‘‘ میں اہم کردار نبھانے کا موقع ملا۔ یہی وہ فلم تھی جس میں انھوں نے گلوکارہ کے طور پر بھی خود کو آزمایا۔ اسی فلم سے ان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا۔

1941ء میں موسیقار غلام حیدر نے انھیں اپنی فلم ’’خزانچی‘‘ میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا۔ 1941ء میں ہی بمبئی میں بننے والی فلم ’’خاندان‘‘ ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم کی تیاری کے دوران ہی ہدایت کار شوکت حسین رضوی ان کی محبت میں‌ گرفتار ہوئے اور بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔

قیامِ پاکستان سے پہلے نورجہاں کی جو فلمیں مشہور ہوئیں ان میں لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی شامل ہیں۔ تقسیم کے بعد انھوں نے پاکستانی فلم ’’چن وے‘‘ میں کام کیا۔ وہ اس فلم کی ہدایت کار بھی تھیں۔ بعد میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لختِ جگر، انتظار، نیند، کوئل اور دیگر فلمیں‌ ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد انھوں نے اداکاری سے کنارہ کرلیا اور گلوکاری تک محدود ہوگئیں۔ انھوں نے لگ بھگ 995 فلموں کے لیے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم ’’گبھرو پنجاب دا‘‘ تھی جو 2000ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

1965ء کی جنگ کے دوران میڈم نور جہاں کی آواز میں‌ گونجنے والے یہ ملی نغمے آج بھی اسی قومی جوش و جذبے اور ہمت و بہادری کی یاد دلاتے ہیں جن کے بول تھے “اے وطن کے سجیلے جوانو، رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو، اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے”۔

حکومتِ پاکستان نے ملکہ ترنم میڈم نور جہاں کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نشانِ امتیاز عطا کیا۔ وہ کراچی میں‌ ڈیفنس کے قبرستان میں مدفون ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں