The news is by your side.

Advertisement

نور مقدم زندہ ہوتی تو۔۔۔ بشریٰ انصاری کا معنی خیز پیغام

کراچی: پاکستانی اداکارہ بشریٰ انصاری نے نور مقدم کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں بڑھتے تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بشریٰ انصاری نے سماجی رابطے کی فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ انسٹاگرام پر متوفیہ کی ایک پرانی تصویر شیئر کی، جس میں نور مقدم ملک میں خواتین کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شریک تھیں اور ہاتھوں میں پلے کارڈ تھاما ہوا تھا۔

بشریٰ انصاری نے تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’افسوس! ان واقعات کو اب تک کوئی نہیں روک سکا، کاش! نور مقدم بیرون ملک چلی جاتی تو اس (ظاہر جعفر) نفسیاتی انسان سے  بچ جاتی‘۔

اداکارہ نے لکھا کہ ’اگر آج نور زندہ ہوتی تو جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی مظلوم خواتین کے لیے آواز اٹھاتی‘۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس سے نورمقدم اوربچیوں کے زیادتی کیسز کا اسپیڈی ٹرائل کا حکم دینے کی اپیل

یہ بھی پڑھیں: نورمقدم قتل کیس میں اہم انکشاف

بشریٰ انصاری نے حکومت اور قانون سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’اب تو ایسے واقعات حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں، براہ کرم، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جلد از جلد قوانین بنائیں کیونکہ ہم ہر روز ایک نیا کیس دیکھ رہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں گزشتہ دنوں ایک لڑکی کے بہیمانہ قتل کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا، جس کی شناخت ظاہر جعفر کے نام سے ہوئی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Bushra Bashir (@ansari.bushra)

نور مقدم کے قتل کا مقدمہ والد کی مدعیت میں تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا، مقدمہ میں سابق پاکستانی سفیر شوکت علی نے بتایا کہ ان کی بیٹی نور مقدم جس کی عمر 27سال ہے اس کو ملزم ظاہر نے تیز دھار آلہ سے قتل کیا،پولیس کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشددکے نشانات پائے گئے جب کہ سر دھڑ سے الگ تھا۔

پولیس نے ملزم کو اسلام آباد کی عدالت میں پیش کیا، جہاں جج نے ظاہر جعفر کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں