The news is by your side.

Advertisement

نورمقدم قتل کیس، 6 ملزمان کو ضمانت دینے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد : نور مقدم قتل کیس میں 6ملزمان کو ضمانت دینے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ، نورمقدم کے والد نے استدعا کی ہے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے چھ ملزمان کی ضمانت منسوخ کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نور مقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے ملازمین اور مالک کی ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کردی گئی ، درخواست نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے دائر کی۔

جس میں کہا گیا کہ ایڈیشنل سیشن جج کا چھ ملزمان کو ضمانت دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے چھ ملزمان کی ضمانت منسوخ کی جائے۔

یاد رہے 24 اگست کو نور مقدم کیس میں ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے تھراپی ورکس کے سی ای او ڈاکٹر طاہر ظہور سمیت تمام 6 ملازمین کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے پانچ ، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے وکیل نورمقدم نے کہا تھا کہ کیس ختم نہیں ہوا صرف ملزمان کی ضمانت ہوئی ہے، عدالت کی جانب سےضمانت دینا ہمارےلیےسرپرائز نہیں، مرکزی ملزم ظاہر جعفرکےخلاف ہمارےپاس ثبوت ہیں، وہ سزا سے بچ نہیں پائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں