The news is by your side.

Advertisement

نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد : نور مقدم قتل کیس میں گرفتار  مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواستیں عدالت نے مسترد کردیں۔

 ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل نے محفوظ فیصلہ سنایا، اسلام آباد کی سیشن عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی سیشن عدالت میں نور مقدم کے قتل کیس کی سماعت ہوئی  اس موقع پر ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی، عدالت نے گزشتہ روز  محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔

گزشتہ روز دوران سماعت ملزمان کے وکلاء اور پراسیکیوشن نے درخواست ضمانت پر دلائل دئیے تھے، عدالت میں ملزمان کے وکلا کی جانب سے مختلف کیسوں اور فیصلوں کا حوالے دیا گیا، عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں جبکہ عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

واضح رہے کہ عید کی رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ایف سیون سے ایک سربریدہ لاش ملی تھی، جسے سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کے نام سے شناخت کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا بعد ازاں اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا تھا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مقتولہ کی موت دماغ کو آکسیجن سپلائی بند ہونے سے ہوئی، مقتولہ کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی پائے گئے، ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کیا، جس کے بعد پولیس نے تصدیق کی تھی کہ جرم کے وقت ملزم نشے میں نہیں تھا جبکہ دماغی طور پر بھی وہ بالکل صحت مند ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں