The news is by your side.

Advertisement

نورمقدم قتل کیس : تھراپی ورکس کے ملازم نے انسپکٹر اور ظاہرجعفر کے خلاف استغاثہ دائر کر دیا

اسلام آباد :نورمقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے زخمی ملازم امجد نے انسپکٹر اور ظاہر جعفر کے خلاف استغاثہ دائر کر دیا، ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی 13 نومبر کو استغاثہ کی درخواست پرسماعت کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی سیشن عدالت میں نورمقدم قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، جس میں تھراپی ورکس کے زخمی ملازم کاانسپکٹر عبدالستار اورظاہرجعفر کیخلاف استغاثہ دائر کردیا گیا۔

استغاثہ وکیل کے ذریعے تھانہ کوہسار کے علاقہ مجسٹریٹ میں دائر کیا گیا ، جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے درخواست ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کو بھیج دی ، ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی 13 نومبر کو استغاثہ کی درخواست پرسماعت کریں گے۔

درخواست گزار نے کہا کہ 20جولائی کی شام ساڑھے7 بجےمکان پرٹیم کےہمراہ پہنچے، گزشتہ ڈیڑھ سال سےتھراپی ورکس کےساتھ کام کررہاہوں، نشے کےعادی اورنفسیاتی مریضوں کاعلاج کرتےہیں۔

تھراپی ورکس کے زخمی ملازم کا کہنا تھا کہ میڈیکل انٹروینشن کےلیےظاہرکےگھرپہنچےتووہ اوپر کمرے میں تھا، چوکیدارافتخارنےبتایا ظاہرذاکرجعفر کےپاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، سیڑھی لگاکرکمرےمیں داخل ہوا،اس نےمجھ پرحملہ کردیا۔

درخواست گزار کے مطابق ظاہرجعفر نے 9ایم ایم پسٹل سےفائرکیالیکن گولی نہیں چلی، تھراپی ورکس کےدیگرملازمین مجھےاسپتال لیکرپہنچے، ظاہرجعفرکےکمرےمیں نورمقدم کی لاش پڑی تھی، لاش کومجھ سمیت دیگرملازمین نے خوددیکھا۔

ملازم کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر نےہمیں گواہ بنانےکی بجائےملزم بنا دیا، تفتیشی افسر نےہمیں ملزمان بناکرملزم کوفائدہ پہنچانےکی کوشش کی، تفتیشی افسرعبدالستار اورظاہرجعفرکے خلاف مقدمہ درج کیاجائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں