The news is by your side.

Advertisement

عدالت پر پورا بھروسہ ہے، نور مقدم کے والد بیٹی کے قتل کی تفتیش سے مطمئن

اسلام آباد : نور مقدم کے والد نے بیٹی کے قتل کی تفتیش پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا عدالت پر پورا بھروسہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے سیشن عدالت کے باہر میڈیا سےبات چیت کرتے ہوئے کہا ہم نے ملزمان کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا مانگی ہے، جج پر ہمیں پورا بھروسہ ہے انہوں نے صاف شفاف ٹرائل کیا۔

شوکت مقدم کا کہنا تھا کہ تفتیش سے مکمل مطمئن ہوں، تھوڑی بہت اونچ نیچ ہوجاتی ہے، پولیس پر پریشر رہا لیکن انہوں نے اپنی پوری تفتیش کی۔

نور مقدم کے والد نے کہا کہ حکومت کا ملازم رہا ہوں ، بجٹ کا ہمیشہ بیس فیصد ملتا ہے، نورمقدم نیک لڑکی تھی اور وہ کسی چیز میں ملوث نہیں تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا نورمقدم کو یرغمالی بنا کر رکھا گیا۔

یاد رہے اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں نورمقدم قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جو چوبیس فروری کو سنایا جائے گا۔

وکیل مدعی شاہ خاور نے کہا پراسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف کیس ثابت کردیا، عدالت ملزمان کو سخت سے سخت سزا دے۔

مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکلا نے عدالت سے شک کا فائدہ دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کسی گواہ نے قتل کا عینی شاہد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ عید کی رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ایف سیون سے ایک سربریدہ لاش ملی تھی، جسے سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کے نام سے شناخت کیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا بعد ازاں اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں