The news is by your side.

Advertisement

فرانزک رپورٹ : نور مقدم کو قتل سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

لاہور : نور مقدم کيس کی فرانزک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نور کو قتل سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، ملزم ظاہر کا ڈی اين اے اور فنگر پرنٹس نمونوں سے ميچ کرگئے۔

تفصیلات کے مطابق نور مقدم کيس کی فرانزک رپورٹ ميں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ، فرانزک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم ظاہر جعفر نے قتل سے پہلے مقتولہ سے زیادتی بھی کی اور مقتولہ نور مقدم پر بدترين تشدد کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم ظاہرکا ڈی اين اے اور فنگرپرنٹس نمونوں سے ميچ کرگئے، قتل ميں استعمال چاقو پر ملزم ظاہرجعفر کے فنگر پرنٹس موجودہيں، مقتولہ نورمقدم کا پوسٹ مارٹم قتل سے 12گھنٹے بعد کياگيا۔

فرانزک رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی ميں نظرآنيوالا شخص ملزم ظاہرجعفراورمقتولہ نورمقدم ہی ہيں۔

گذشتہ روز وزارت داخلہ نے نور مقدم قتل کیس میں ملوث تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل کردیئے تھے ، ملزمان میں ظاہر جعفر، والدذاکرجعفر، والدہ عصمت ، ملازم امجد سمیت گھرمیں کام کرنیوالے 3ملازمین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ عید کی رات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ایف سیون سے ایک سربریدہ لاش ملی تھی، جسے سابق سفیر شوکت مقدم کی 27 سالہ بیٹی نور مقدم کے نام سے شناخت کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم ظاہر جعفر نے نور کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا بعد ازاں اس کا سر دھڑ سے الگ کردیا تھا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مقتولہ کی موت دماغ کو آکسیجن سپلائی بند ہونے سے ہوئی، مقتولہ کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی پائے گئے، ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کیا، جس کے بعد پولیس نے تصدیق کی تھی کہ جرم کے وقت ملزم نشے میں نہیں تھا جبکہ دماغی طور پر بھی وہ بالکل صحت مند ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں