اسلام آباد: وزیراطلاعات ونشریات عطاتارڑ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کچہری خودکش حملے کی منصوبہ بندی کابل میں ہوئی اور وہاں موجود نور ولی محسود نے کی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اسلام آباد کچہری پر خودکش حملے کے پیچھے محرکات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، خودکش حملے کی تحقیقات میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، اسلام آباد کچہری کے سیکیورٹی کے انتظامات اچھے تھے ، بہتر سیکیورٹی کی وجہ سے دہشت گرد ہائی ویلیو ٹارگٹ حاصل نہ کرسکے۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے 48 گھنٹے کے اندر چار ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد زالی اور شاہ منیر شامل ہیں۔ ساجد اللہ حملہ آور کا ہینڈلر تھا اور اس نے 2015 میں کالعدم تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ ساجد اللہ نے افغانستان میں متعدد مرتبہ ٹریننگ حاصل کی اور داداللہ نامی شخص کے ذریعے نورولی محسود سے مل کر حملے کی پلاننگ کی، اگست 2025 میں ساجد اللہ اور محمد زالی کابل گئے اور ساجد اللہ نے نورولی محسود نے کمانڈر داد اللہ سے مل کر حملے کی پلاننگ کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کچہری خودکش حملےکی پوری پلاننگ کابل میں کی گئی ، ساجد اللہ نے پاکستان آکر خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی ، عثمان شنواری بھی افغانستان سے آیا تھا، جسے خودکش جیکٹ لاکردی گئی خودکش حملہ آورعثمان شنواری ننگر ہار افغانستان کا رہائشی ہے، ساجداللہ اورعثمان شنواری دونوں ملکر مختلف مقامات کی ریکی کرتے رہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کی وجہ سے حملہ آور اپنے ہائی ویلیو ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکا اور اللہ کا شکر ہے کہ بڑے نقصان سے بچا جا سکا۔
انھوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کچہری حملے میں ملوث تمام عناصر افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں، اور تحریک طالبان افغانستان نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر یہ خودکش حملہ کیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان کی افواج دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے ہر روز قربانیاں دے رہی ہیں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عطاء تارڑ نے یہ بھی بتایا کہ ثبوت عوام اور متعلقہ فورمز کے سامنے رکھے جائیں گے اور دوست ممالک کے سامنے بھی یہ ثبوت پہلے پیش کیے جا چکے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


