The news is by your side.

Advertisement

شمالی کوریا نے اپنا وقت جنوبی کوریا سے ملا دیا

سیئول : کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان سے ملاقات کے بعد شمالی کوریا کا وقت جنوبی کوریا سے ملادیا۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ ہفتے شمالی اور جنوبی کوریا کے صدور کے مابین ہونے والی اہم ملاقات کے نتائج آنا شروع ہوگئے، کم جونگ نے شمالی کوریا کا وقت جنوبی کوریا سے ملا دیا ہے۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں کا کہنا تھا کہ حکومت نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ ہفتے کے روز سے شمالی کوریا آدھا گھنٹا آگے چلے گا۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں شمالی کوریائی حکام نے یہ کہتے ہوئے کہ ’دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانی سامراج شمالی کوریا پر قبضہ کرکے ملک کا وقت تبدیل کردیا تھا، تاکہ شمالی کوریا ٹوکیو کے ساتھ چلے‘۔

دونوں رہنماؤں کی تاریخی ملاقات سے قبل شمالی کوریا جاپان اور جنوبی کوریا سے 30 منٹ پیچھے چل رہا تھا۔

خیال رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سنہ 1950 میں جنوبی کوریا نے ٹائم زون جاپان سے علیحدہ کردیا تھا تاہم دس سال بعد ہی جنوبی کوریا نے واپس اپنا وقت جاپان کے ساتھ ملا دیا تھا۔

واضح رہے کہ پانمن جوم غیر فوجی علاقے پر دونوں ملکوں کے سربراہوں کی ملاقات ہوئی تھی وہاں دو گھڑیاں آویزاں تھیں جو شمالی اور جنوبی کوریا کا وقت بتارہی تھی۔

سربراہان مملکت کی ملاقات کے بعد جنوبی کوریا کے صدراتی آفس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کیا تھا کہ ’کم جونگ ان دونوں ملکوں کی گھڑیاں دیکھ کر غمزدہ ہوگئے تھے‘۔

اسی دوران امریکی صدر نے وائٹ ہاوس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کم جونگ ان سے ملاقات کی تاریخ اور جگہ کے حوالے سے معلومات آگئی ہے جس کا اعلان جلد ہی کردیا جائے گا، امید ہے اس ملاقات سے اچھے نتائج سامنے آئے گے۔


شمالی اور جنوبی کوریا نے باہمی جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا


یاد رہے کہ گذشتہ روز شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کا تاریخی دورہ کیا اور صدر مون جے ان سے ملاقات کی بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے باہمی جنگ کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر بھی اتفاق کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں