شمالی کوریا کا ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا دعویٰ -
The news is by your side.

Advertisement

شمالی کوریا کا ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا دعویٰ

پیانگ یانگ : کوریا اور امریکہ کے درمیان حالات مزید کشیدہ ہونے جا رہے ہیں، شمالی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے، جبکہ چھ اعشاریہ تین شدت کا زلزلہ ریکارڈ ہونے کے بعد جنوبی کوریا نے شمالی کوریا پر ایٹمی تجربے کا الزام عائد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جنگی جنون میں مبتلا شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ اس نے ایک ایسے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے، جو روایتی ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے۔

پیانگ یانگ کے مطابق یہ بم باآسانی بیلسٹیک میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے، جس کی پہنچ دیگر براعظموں تک ہے۔ ہائیڈروجن بم کا تجربہ کم جونگ ان کے احکامات کے بعد کیا گیا۔

اس سے قبل شمالی کوریاکی جانب سےچھٹی بار ایٹمی تجربہ کیاگیا ہے، جس کے نتیجے میں شمالی کوریا میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، شمالی کوریا کا بم تجربہ گزشتہ تجربات سے کئی گناہ طاقتورہے۔

اتوار کو کوریائی خطے میں موجود امریکی جیولوجیکل سروے نے 6.3 کی شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا، جس کا مرکز شمالی کوریا کی جوہری تنصیبات کا قریبی علاقہ تھا۔

جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق یہ زلزلہ پیما پر ریکارڈ کیے گئے جھٹکے دراصل شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی تجربات کا نتیجہ تھے، اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی کوریا نے جوہری تجربہ کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے شمالی کوریا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو دھکانے پر اُسے بھی آگ اور غصہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

شمالی کوریا کے پڑوسی ممالک نے اس صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے جنوبی کوریائی ہم منصب سے فون پر ہنگامی رابطہ کیا۔


مزید پڑھیں :  شمالی کوریا کا پانچواں جوہری میزائل کا کامیاب تجربہ


یاد رہے اس سے قبل گذشتہ سال ستمبر میں شمالی کوریا نے  پانچواں ایٹمی تجربہ کیا تھا،  جس کے نتیجے میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے تھے، ایٹمی تجربہ کے بعد خطے میں صورتحال بھی کشیدہ ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا کو اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کی وجہ سے امریکا اور اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں