شمالی کوریا میں امتحانی نتائج پر امتحان میں فیل ہوجانے والوں کو کوئلے کی کان میں بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق شمالی کوریا کی حکمران جماعت ‘ورکرز پارٹی آف کوریا’ نے ملک بھر کے سینیئر مڈل اسکولوں میں بڑے پیمانے پر معائنے اور سخت تادیبی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔
یہ قدم نئے تعلیمی سال کے آغاز پر متعارف کرائے گئے ‘انتخابی مضامین کے نظام’ کے تحت ہونے والے امتحانات میں طلبا کی بھاری اکثریت کے فیل ہونے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ صوبہ شمالی ہیمگیونگ میں منعقدہ اسپیشلائزیشن ٹریک امتحانات میں طلبا کی بڑی تعداد مطلوبہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہی۔
حکام نے اس صورتحال کو "غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے فوری معائنہ ٹیمیں اسکولوں میں روانہ کر دی ہیں۔
صوبائی پارٹی کمیٹی کے شعبہ تعلیم نے وارننگ جاری کی ہے کہ جو طلبا معیار پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں زبردستی کوئلے کی کانوں، بجلی گھروں یا تعمیراتی منصوبوں پر مزدوری کے لیے بھیج دیا جائے گا۔
حیران کن طور پر صوبے کے ‘نمبر 1 مڈل اسکول’ (جو ذہین طلبا کے لیے مخصوص ہے) کے نتائج بھی مایوس کن رہے، جس پر پارٹی نے واضح کیا ہے کہ افسران کے بچوں کو بھی رعایت نہیں دی جائے گی۔
طلبا کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی اس "تعلیمی ناکامی” کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جبکہ ایک ہوم روم ٹیچر کو اپنے طالب علم کی ناقص کارکردگی پر "نااہل نظریاتی تخریب کار” قرار دے کر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اساتذہ کو اجتماعی طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سزا دی جا رہی ہے، جس کے باعث تعلیمی عملے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
اس صورتحال نے والدین میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ بہت سے والدین کا خیال ہے کہ حکومت "نااہل طالب علم” کا لیبل لگا کر نوجوانوں کو جبری مشقت کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
دوسری جانب بااثر والدین اپنے بچوں کو کانوں میں مزدوری سے بچانے کے لیے حکام کو بھاری رشوت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پارٹی کے سخت دباؤ کی وجہ سے فی الحال یہ حربے بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی قیادت کا موقف ہے کہ یہ سختیاں پارٹی کے معیار کے مطابق ملک گیر تعلیمی نظام کو قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں.
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


