The news is by your side.

Advertisement

میگنس کا گھوڑا اور ہیرالڈ کی جیت

ناروے کی لوک کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ناروے کے بادشاہ کے سامنے ایک اجنبی پیش ہوا۔ اس کا نام ہیرالڈ تھا اور اس نے خود کو آئرلینڈ کا باسی بتایا۔ اس کی آنکھیں اس کے بالوں کی طرح سیاہ تھیں۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ ناروے کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اجنبی نے ایک حیرت انگیز بات یہ کہی کہ اس ملک پر کبھی اس کے بزرگ حکومت کیا کرتے تھے۔

تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہ کو اجنبی کا انداز اور اس کی باتیں‌ بہت پسند آئیں۔ وہ واقعی ایک باتمیز اور مہذّب اور بڑے رکھ رکھاؤ والا لگتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کی تربیت کسی شاہی ماحول میں ہوئی ہے۔ بادشاہ نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اجنبی سچ بول رہا ہو اور تخت پر اپنا حق جتا کر اسے واپس مانگے، لیکن اس سوچ کو پیچھے رکھ کر اس نے مثبت انداز سے سوچنا شروع کیا۔ اس نے سوچا کہ وہ بوڑھا ہو چکا ہے اور اس کی موت کے بعد ہیرالڈ ناروے کا بادشاہ بن سکتا ہے کیوں کہ اس میں بظاہر بادشاہ بننے کے تمام اوصاف موجود ہیں۔

بادشاہ کا بیٹا میگنس بہت سست اور کاہل تھا اور سبھی اس سے نالاں رہتے تھے، بادشاہ نے سوچا کہ ہیرالڈ اس کے بیٹے سے بھی بہتر بادشاہ ثابت ہو سکتا ہے۔ میگنس راتوں کو دیر تک جاگتا اور دوستوں کے ساتھ شور شرابا اور موج مستی کرتے ہوئے وقت برباد کرتا تھا۔وہ کوئی کام کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ ورزش کرنا تو اسے بالکل پسند نہیں تھا۔

ایک شام میگنس نے ہیرالڈ کو ایک شخص سے باتیں کرتے سنا، وہ آئرلینڈ کے متعلق بتا رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ آئرلینڈ ایک خوب صورت اور سرسبز ملک ہے، جو اونچے پہاڑوں اور خوب صورت جھیلوں سے اٹا ہوا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہاں کے لوگ بہت مضبوط، بہادر اور پھرتیلے ہیں۔ اس نے باتیں کرتے ہوئے اس شخص کو بتایا کہ آئرلینڈ میں ایسے بھی نوجوان ہیں جو تیز رفتار گھوڑوں سے بھی زیادہ تیز دوڑ سکتے ہیں۔ میگنس اس شخص کو ناپسند کرتا تھا جو کہیں دور سے آکر اس کے والد کی نظروں میں‌ بہت عزت اور مقام حاصل کرگیا تھا۔ وہ اکثر اپنے باپ سے ہیرالڈ کی تعریفیں سنا کرتا تھا اور چڑنے لگا تھا۔

میگنس نے یہ باتیں سن کر فوراً کہا’’ میں اس بات پر یقین نہیں کرتا۔‘‘ ہیرالڈ نے میگنس کو بتایا ’’یہ سچ ہے۔‘‘

میگنس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ’’ نہیں یہ سچ نہیں۔‘‘

ہیرالڈ نے کہا’’حقیقت یہ ہے کہ واقعی آئرلینڈ میں ایسے نوجوان ہیں جو دنیا کے تیز رفتار ترین گھوڑے سے بھی تیز بھاگتے ہیں۔‘‘

شہزادے میگنس نے کہا، ’’ ٹھیک ہے، میرا اپنا گھوڑا بہت برق رفتار ہے۔ کل میں اس پر سواری کروں گا۔ اور تم اس گھوڑے کے ساتھ دوڑو گے۔ اگر تم نے رفتار میں میرے گھوڑے کی برابری کی، تو میں اپنی سونے کی انگوٹھی تمہیں دے دوں گا۔‘‘ ہیرالڈ نے یہ بات سن کر میگنس کو جواب دیا’’ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں اتنا تیز دوڑ سکتا ہوں بلکہ میں نے کہا ہے کہ آئرلینڈ میں ایسے نوجوان ہیں، جو اتنا تیزدوڑ سکتے ہیں۔‘‘

اس پر میگنس نے بے اعتنائی سے کہا ’’میں آئر لینڈ جا کر ایسے نوجوانوں کو ڈھونڈنے سے رہا، تم اور میں دوڑ کا مقابلہ ناروے میں ہی کریں گے۔‘‘ ہیرالڈ نے میگنس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ وہ دوڑے گا اور نہ ہی یہ کہا کہ وہ نہیں دوڑے گا۔ وہ وہاں سے چلا گیا۔

اگلے دن صبح صبح ایک ہرکارہ ہیرالڈ کے پاس آیا اور اس نے ہیرالڈ کو کہا ’’میگنس تمہارے ساتھ دوڑ لگانے کے لیے تیار ہے۔‘‘ ہیرالڈ نے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنے۔ اوپر ایک چغہ پہنا۔ سر پر آئرلینڈ کا ہیٹ پہنا اور ہاتھ میں بھالا لے لیا۔ میگنس نے اسے دیکھتے ہی کہا ’’ میں نے دوڑنے والے میدان پر نشانا ت لگوا لیے ہیں۔ وہ دیکھو خاصے فاصلے پر جیتنے والی لکیر ہے۔‘‘

ہیرلڈ نے کہا ’’ وہ تو بہت دور لگتی ہے۔‘‘ میگنس نے غرور سے کہا ’’لیکن مجھے وہاں پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔‘‘ بہت سے لوگ یہ دوڑ دیکھنے کے لیے وہاں اکٹھے ہو گئے تھے۔ ایک شخص جس کو اس کام کے لیے منتخب کیا گیا تھا، اس نے دوڑ شروع کروائی۔

میگنس نے اپنے خوب صورت اور برق رفتار گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اس کا گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا، لیکن ہیرالڈ گھوڑے سے پیچھے نہیں تھا۔ میگنس نے یہ دیکھا تو گھوڑے کی رفتار اور تیز کر دی، لیکن اب بھی ہیرالڈ گھوڑے کے ساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا۔ میگنس گھوڑے کو تیز اور تیز اور تیز دوڑانے لگا، لیکن ہیرالڈ بھی آندھی کی رفتار سے بھاگ رہا تھا اور گھوڑے سے پیچھے نہیں تھا۔ جلد ہی وہ جیتنے والی لکیر پر پہنچ گئے۔

میگنس اپنے گھوڑے پر اور ہیرالڈ اپنے پیروں پر۔ لیکن دونوں نے لکیر اکٹھے عبور کی۔ ہیرالڈ کو ابھی سانس بھی نہیں چڑھا تھا۔ اس نے میگنس کی طرف فاتحانہ انداز سے دیکھا، لیکن میگنس نے جو کہا، اسے سن کر ہیرالڈ کو یقین نہیں آیا۔ میگنس نے کہا ’’ تم نے ایمان دارانہ طریقے سے دوڑ نہیں لگائی۔‘‘ تم نے دوڑتے ہوئے میرے گھوڑے کی کاٹھی کو پکڑے رکھا ہے اور میرا گھوڑا کھینچتا ہوا تمہیں یہاں تک لایا ہے۔‘‘ ہیرالڈ یہ بات سن کر بہت ناراض ہوا اور اس نے کہا ’’ ہم دوبارہ دوڑ لگائیں گے۔‘‘ میگنس راضی ہو کر کہنے لگا’’ اب ہم یہاں سے دوڑیں گے اور دوسری سمت دوڑ ختم کریں گے۔‘‘

ایک منتخب شدہ شخص نے دوبارہ دوڑ شروع ہونے کا اشارہ کیا۔ دوڑ شروع ہو گئی۔ اس بار میگنس نے گھوڑے کو مزید تیز بھاگنے پر مجبور کیا، لیکن اس دفعہ ہیرالڈ گھوڑے سے بھی آگے نکل گیا اور گھوڑے سے پہلے ہی جیت کی لکیر عبور کر گیا۔

میگنس کچھ دیر انتظار کرتا رہا کہ گھوڑا ہانپنا بند کرے۔ پھر کچھ کہے بغیر گھوڑے کا رخ دوبارہ دوڑ کے میدان کی طرف موڑ دیا۔ ہیرالڈ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ میگنس نے سر اس کی طرف موڑا اور چلایا’’ دوڑ شروع‘‘ لوگ جو تماشائی تھے، بڑ بڑانے لگے وہ کہہ رہے تھے’’یہ دوڑ نہیں کہلائی جا سکتی۔‘‘ ہیرالڈ البتہ ایک دفعہ پھر پورے زور سے دوڑنے لگا۔ اس نے دوڑتے ہوئے خود سے کہا ’’میں اس دفعہ کوئی شک باقی نہیں رہنے دوں گا۔‘‘ وہ دوڑتا رہا۔ دوڑتا رہا۔ کچھ ہی ساعتوں میں اس نے دوبارہ گھوڑے کو جا لیا۔ اور اب وہ اس کے ساتھ ساتھ بھاگ رہا تھا اور کچھ ہی لمحوں کے بعد اس نے جیتنے والی لکیر عبور کر لی۔ وہ اسے عبور کر کے زمین پر بیٹھ گیا اور سانس لینے لگا۔

جب کچھ دیر بعد میگنس وہاں پہنچا۔ ہیرالڈ چھلانگ لگا کر کھڑا ہوا تا کہ اس کا استقبال کرے۔ میگنس نے منہ سے کچھ نہیں کہا۔ وہ مڑا اور ایک طرف گھوڑا دوڑا کر لے جانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں بادشاہ تک اس واقعے کی خبر پہنچ گئی۔ اس نے میگنس کو بلایا اور اسے کہا’’ تم دوسرے ملکوں کے رہنے والوں کے متعلق بہت کم جانتے ہو۔ وہ ساری رات تمہاری طرح جا گ کر عیاشی نہیں کرتے۔ وہ بہت محنتی ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ورزش کرتے ہیں۔ اور اس لیے زندگی بھر خوش و خرم اور طاقت ور رہتے ہیں۔ اب وعدے کے مطابق ہیرالڈ کو اپنی سونے کی انگوٹھی دو اور اس کی جیت کو جھوٹ کہہ کر مت جھٹلاؤ، جو اس نے تم سے میدان میں حاصل کی ہے۔

ناروے کے اس کاہل اور سست شہزادے کو اپنے والد اور بادشاہ کا حکم ماننا پڑا۔ آج اسے زندگی سے ایک سبق ملا تھاکہ دوسروں کے بارے میں کوئی رائے آسانی سے قائم نہیں کرلینی چاہیے اور جو حقیقت ہو اسے مان لینے ہی میں عافیت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں