The news is by your side.

Advertisement

عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کے حق میں نہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میں انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتا، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو تصادم سے گریز کرنا چاہیے عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 لگانے کے حق میں نہیں ہوں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام "آف دی ریکارڈ” میں گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں دھڑے بندی بہت زیادہ ہوگئی ہے، عمران خان آج بھی پچ پر لیٹے ہوئے ہیں، عمران خان کی وجہ سے ملک میں دھڑے بندی ہوئی، اس دھڑے بندی کو کم کرنا ہوگا، ملک میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، عمران خان چاہتے ہیں ان کی مرضی کا فیصلہ ہو، کسی ایک شخص کی نہیں قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے۔

مدینہ منورہ میں نعرے لگانے والوں کی اکثریت لندن سے آئی تھی

خواجہ آصف نے کہا کہ مسجد نبوی ﷺ کا واقعہ انتہائی افسوناک ہے، مسجد نبویﷺ میں جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا،  شیخ رشید نے پہلے ہی بتادیا تھا دیکھنا ان کے ساتھ مدینہ میں کیا ہوگا، مدینہ منورہ میں نعرے لگانے والوں کی اکثریت لندن سے آنے والوں کی تھی، انیل مسرت، صاحبزادہ جہانگیر اور دیگر لوگ لندن سے مدینہ آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مسجد نبوی ﷺ واقعے پر سعودی عرب کی حکومت کارروائی کررہی ہے، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو تصادم سے گریز کرنا چاہئے، میں انتقامی کارروائی  پر یقین نہیں رکھتا، قانون حرکت میں آتا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ لگے ن لیگ اور اتحادی اسے فائدے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔

عمران خان صفائیاں ایسے پیش کررہے ہیں جیسے وہ ان کے مشیر ہوں

انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک خاتون کی صفائیاں ایسی پیش کررہے ہیں جیسے وہ ان کے مشیر ہوں، پہلے فواد چوہدری نے کہا تھا فرح گوگی کو نہیں جانتے۔

عمران خان تجربہ ناکام ہوگیا ہے

وزیر دفاع نے کہا کہ ملک میں سیاستدانوں کو بدنام کیا گیا، چور اور کرپٹ کہا گیا، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو بدنام کرکے عمران خان کو لایا گیا، الیکشن میں تمام الیکٹبلز عمران خان کو اکھٹے کرکے دیے گئے، عمران خان تجربہ ناکام ہوگیا ہے، جن جماعتوں کو بدنام کیا گیا اب ان کی مخلوط حکومت بن گئی ہے۔

اتحادیوں نے عمران خان کا ساتھ چھوڑا، عمران خان کے اپنے باغی ارکان ان سے ناراض ہیں۔ عمران کو اسپانسر کیا گیا، تاثر دیا گیا کہ وہ عوام کا نجات دہندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 انتخابات شفاف نہیں تھے، اب کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے، عدم اعتماد سے نئی حکومت بنی، 2018 کی غلطی کو جزوی ٹھیک کیا گیا۔

ہماری مرضی ہے کہ ہم کب انتخابات کب کراتے ہیں

خواجہ آصف نے کہا کہ پہلے یہ الیکشن کرانے کیلئے تیار نہیں تھے، اب ہماری مرضی ہے کہ ہم کب انتخابات کب کراتے ہیں، ہماری مرضی ہے کہ ضمنی الیکشن کرائیں یا عام انتخابات، اداروں سے کہیں گے کہ آئندہ انتخابات شفاف ہوں، انہوں نے کہا کہ  ایک دو ماہ میں الیکشن کا فیصلہ ہوجائے گا کہ کب اور کیسے ہونے ہیں۔

نوازشریف ضرور واپس آئیں گے

نواز شریف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نوازشریف ضرور واپس آئیں گے، کب آئیں گے یہ نہیں معلوم، نواز شریف کی سزا کے خلاف قانونی راستہ موجود ہے، لیکن نوازشریف کی سزا معافی کا مجھےعلم نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں