The news is by your side.

Advertisement

گائے کے نام پر مسلمانوں کا قتل، بھارت میں مظاہرے

نئی دہلی : گائے کے تحفظ کے نام پرہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے، مظاہرین نے مسلمانوں کوتحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

مودی سرکار میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کی جان لینا معمول بن گیا، ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل کے بڑھتے واقعات کے خلاف دلی، ممبئی، کولکتہ سمیت بھارت کے طول وعرض میں سیکڑوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کیے جانے والے احتجاجی مارچ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جن میں بزرگ شہری اور بہت سے والدین بھی تھے، جو اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائے تھے۔ ان افراد نے اپنے ہاتھوں میں شمعیں لیے امن کے لیے گیت بھی گائے۔

ممبئی میں بھی مظاہرے میں بالی وڈ کے کئی اداکاروں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں عام شہریوں نے شرکت کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسلمانوں اوراقلیتوں کا قتل عام قبول نہیں۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے، جن پر لکھا تھا، ’میرا نام لے کر نہیں‘ اور گائے دہشت گردی بند کروکے نعرے درج تھے۔


مزید پڑھیں : نئی دہلی :گوشت کھانے کا شبہ،4 افراد پر ہجوم کا بدترین تشدد، ایک شخص ہلاک،3زخمی


گزشتہ جمعے کے روز نئی دہلی میں ایک ٹرین میں سوار چار مسلمانوں مسافروں کو ایک ہجوم نے ’’گائے کا گوشت کھانے والے‘‘ کہہ کر پیٹنا شروع کر دیا تھا، جس سے ایک جاں بحق جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے۔

خیال رہے کہ بھارت میں گائے کو مذہبی طور پر مقدس سمجھا جاتا ہے اور ملک کی متعدد ریاستوں میں اس جانور کو ذبح کرنے پر بھی پابندی عائد ہے، جب کہ کچھ ریاستوں میں تو یہ باقاعدہ جرم ہے، جس کی سزا عمر قید ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں