اداروں سے ٹکراؤ کا حامی نہیں، چوہدری نثار ch nisar institution
The news is by your side.

Advertisement

نیا پارٹی صدر بناتے وقت مشورہ تک نہ کیا گیا، نثار

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اداروں سے ٹکراؤ کا حامی نہیں ہوں اور میرا مؤقف اصولی ہے، پارٹی میں مشاورت کا فقدان ہے، نومنتخب پارٹی صدر کی نامزدگی کے لیے مشورہ نہیں لیا گیا۔

چوہدری نثار علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ پارٹی میں مشاورت کا فقدان ہیں اس لیے فیصلوں کی اطلاع ٹی وی چینلز کے ذریعے ملتی ہے، پارٹی کے معاملات طے کرنے کے لیے مشاورت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہوں کہ اداروں سے ٹکراؤ مفاد میں نہیں ہے، اس طرح کی صورتحال سے حالات مزید کشیدگی اختیار کریں گے‘‘۔ چوہدری نثار علی خان نے مزید کہا کہ ظفر علی شاہ جیسا سینئر رہنماء بھی آج نوازشریف کی پالیسیوں پر تنقید کررہے ہیں اور انہیں اب کسی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں نہیں بلایا جاتا۔

پڑھیں: سینیٹر یعقوب خان مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر منتخب

مسلم لیگ ن کے رہنماء نے مزید کہا کہ ’’پارٹی میں نئے صدر کی نامزدگی کا مشورہ کسی سیئنر سے نہیں لیا گیا بلکہ یہ خبر ٹی وی کے ذریعے موصول ہوئی کہ سینیٹر یعقوب کو پارٹی کی صدارت سونپی گئی ہے‘‘۔

یاد رہے پاناما فیصلے آنے سے کچھ روز قبل چوہدری نثار علی خان نے بطور وزیرداخلہ دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے ہوئے میاں نوازشریف کو مشورہ دیا تھا کہ ’’سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے اُسے قبول کرنا چاہیے اور محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے‘‘۔

سپریم کورٹ کی جانب سے نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد چوہدری نثار علی خان منظر عام سے غائب ہوگئے تھے تاہم بعد میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسلام آباد سے لاہور روانگی کے وقت چوہدری نثار ہی نوازشریف کی گاڑی چلائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کمر درد وجہ نہیں، ننانوے فیصد سینیئر رہنما ہی ریلی میں شریک نہیں، چوہدری نثار

مری ہاؤس سے جب نوازشریف کا قافلہ لاہور کے لیے روانہ ہوا تو چوہدری نثار وہاں موجود نہیں تھے اور وہ پوری ریلی میں شریک نہ ہوئے تاہم انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ’’ریلی میں شرکت نہ کرنے کی وجہ طبیعت ناسازی نہیں بلکہ کئی سینئر رہنماء اداروں سے محاذ آرائی نہیں چاہتے‘‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں