The news is by your side.

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 29 نومبر کو ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 29 نومبر کو ریٹائرمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد جنرل عاصم منیر پاک فوج کے سپہ سالار کی کمان سنبھالیں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے موجودہ سربران کی ریٹائرمنٹ کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے گیے ہیں۔

موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 29 نومبر کو ریٹائرمنٹ اور موجودہ چئیرمین جنرل ندیم رضا کی27 نومبر کو ریٹائرمنٹ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

خیال رہے جنرل قمر جاویدباجوہ نے چھ سال پاک فوج کے سولویں سربراہ کے طور ذمہ داری نبھائی، اںھوں نے پاک فوج میں اہم عہدوں پر خدمات کی انجام دہی سمیت سفارتی اور اقتصادی محازوں پر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تربیت مکمل کرنے کے بعد اپنے فوجی کیریئر کا آغاز 1980ء میں 16 بلوچ ریجمنٹ سے کیا ، جس کی کمانڈ ان کے والد نے کی تھی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ 1988 ، بطور میجر آزاد کشمیر میں این ایل آئی میں فرائض کی ادائیگی کے علاوہ بطور لیفٹیننٹ کرنل راولپنڈی کور میں اسٹاف آفیسر خدمات بھی انجام دیں۔

سال 2009 میں بطور میجر جنرل گلگت بلتستان میں کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز خدمات کے علاوہ 2011 ء میں بطور انسٹرکٹر اسکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹکس، کوئٹہ بھی تعینات رہے۔

انہوں نے 2007ء میں کانگو میں اقوام متحدہ کے مشن میں بریگیڈ کمانڈر فرائص بھی سرانجام دیئے ، اگست 2013ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد انہیں کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کیا گیا،جبکہ 2014 میں، انہیں بلوچ رجمنٹ کا کرنل کمانڈنٹ مقرر کیا گیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ ستمبر 2015ء میں جی ایچ کیو میں انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن بھی تعینات رہے ، 29 نومبر 2016 کو اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو نیا آرمی چیف مقررکیا۔

بعد ازاں 19 اگست 2019 ء کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کی منظوری دی، جس کیلئے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں جنوری 2020 ء کو پارلیمنٹ سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون باقاعدہ منظورکیا گیا۔

بطور سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے ضرب غصب کی کامیابیوں کو تقویت دینے کیلئے آپریشن ردالفساد شروع کیا ، جس سے دہشت گرد گروپوں کے سلیپر سیل اور سہولت کاروں کا خاتمہ ممکن ہوا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کو درپیش قومی سلامتی کے چیلنجز سے نکالنے کیلئے سفارتی محاذ پر خاموش مگر کامیاب کاوشیں کیں، جس کے نتیجے میں خطے اور عالمی سطح پر دشمن کا پاکستان کی تنہا کرنے کا منفی پراپیگنڈہ شکست سے دوچار ہوا۔

اس موثر سفارتکاری پر انہیں سعودی عرب کے اعلی ترین اعزاز کنگ عبدالعزیز میڈل سمیت روس ، یو اے ای ، ترکی ،بحرین اور اردن کی جانب سے اعلی ترین اعزازات سے نوازگیا۔

اس کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سی پیک کو آگے بڑھانے کے علاوہ فیٹف اور آئی ایم ایف کے محاذ پر بھی بڑھ چڑھ کر خدمات انجام دیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج میں میں شمولیت سے قبل راولپنڈی میں سرسید کالج اور گورڈن کالج میں بھی زیر تعلیم رہے، جنر ل قمر جاوید باجوہ کینیڈین آرمی کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اور امریکہ کے نیول پوسٹ گریجوایٹ اسکول سمیت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں