The news is by your side.

Advertisement

مرگی کے دوروں کو روکنا ممکن ہے؟

لاعلاج مرض مرگی اپنے مریضوں کی زندگی بے حد مشکل بنا دیتا ہے، تاہم اب اس کے حوالے سے ماہرین کو امید کی نئی کرن دکھائی دی ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق سائنسدانوں نے مرگی کے دورے روکنے اور اس کے ممکنہ نقصان سے بچنے کا ایک نیا طبی طریقہ دریافت کیا ہے۔

ڈبلن میں واقع ٹرینٹی کالج میں جینیات کے پروفیسر ڈاکٹر میتھیو کیمبیل اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ نئی تحقیق سے ایسی ادویات بنانے میں مدد ملے گی جنہیں لاعلاج مرگی اور اس کے دوروں کے افاقے میں استعمال کیا جاسکے گا۔

اس تحقیق میں مرگی کے پورے عمل کو سالماتی سطح پر سمجھا گیا ہے جو اس سے قبل ممکن نہ تھا۔

دماغ کی فالتو برقی سرگرمیوں کی وجہ سے مرگی کے دورے پڑتے ہیں اوردماغ سمجھ نہیں پاتا کہ آخر وہ ان سگنلز کی کیا تشریح کرے، اس سے جسم پر دورے پڑتے ہیں اور مریض بے ہوش بھی ہوجاتا ہے۔

اس میں بطورِ خاص ان باریک رگوں کو دیکھا گیا ہے جو بلڈ برین بیریئر (بی بی بی) کی تشکیل کرتی ہیں۔

نئی طبی تحقیق بتاتی ہے کہ بی بی بی کا مرگی میں خاص کردار ہوتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بی بی بی نظام میں خون کی باریک ترین رگوں یعنی کیپلریز کو سرگرم رکھ کر ہی مرگی کو روکا جاسکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس تحقیق میں ماہرینِ جینیات، نیورولوجسٹ، نفسیاتی معالجین، نیوروسرجن اور دیگر شعبوں کے ماہرین بھی شامل تھے جو دیگر اداروں سے وابستہ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں