The news is by your side.

نویں قسط: پُر اسرار ہیروں والی گیند اور دہشت بھری دنیا

پہلی کتاب: آتشی پتھر.................باب: بارہ ہیرے اور جادوئی گولا

نوٹ: یہ طویل ناول انگریزی سے ماخوذ ہے، تاہم اس میں کردار، مکالموں اور واقعات میں قابل ذکر تبدیلی کی گئی ہے، یہ نہایت سنسنی خیز ، پُر تجسس، اور معلومات سے بھرپور ناول ہے، جو 12 کتابی حصوں پر مشتمل ہے، جسے پہلی بار اے آر وائی نیوز کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے احتیاط کے ساتھ کے خستہ صفحات الٹے اور بولے۔ "یہ تو بے حد دل چسپ کتاب ہے، تم لوگوں کو یہ کہاں سے مل گئی؟ یہ تو کسی بہت قدیم ایلوری کیتھ مور نامی مصنف نے لکھی ہے۔ یہ کہانی شہنشاہ کیگان سے متعلق ہے جو یہاں سے بہت دور ایک جگہ رہتا تھا، اس کے پاس دولت اور خزانوں کے انبار تھے۔”

اینگس کتاب کا پہلا صفحہ الٹتے ہی بولتے چلے گئے۔ "اس کے پاس اتنی دولت تھی کہ کئی لوگ اس کی جان کے دشمن بن گئے اور یہ دولت حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کی سازشیں کرنے لگے۔ اس کتاب کی خطاطی بہت ہی پیاری ہے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے اتنی خوب صورت خطاطی دیکھ کر، کیوں کہ آج تک میں نے ایسی خطاطی نہیں دیکھی۔ ارے، تم لوگوں نے بتایا نہیں کہ یہ کتاب تمھیں کہاں سے ملی؟”

فیونا اپنے دوستوں کی طرف دیکھنے لگی، پھر ایک طویل سانس لے کر بولی۔ "انکل، میں اس وقت تک آپ کو یہ نہیں بتا سکتی جب تک آپ ہمارے ساتھ اسے راز رکھنے کا وعدہ نہ کریں۔ آپ میری ممی سے اس کا ذکر نہیں کریں گے۔”

اینگس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "میرا خیال ہے تم لوگ مجھ پر اعتبار کر سکتے ہو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے اپنے ہی تک محدود رکھوں گا۔” یہ سن کر فیونا نے انھیں قلعۂ آذر میں داخل ہونے کی پوری کہانی سنا دی۔ وہ سر ہلا کر بولے "تو یہ بات ہے، بہت دل چسپ!”

جبران پہلی مرتبہ بولا۔ "کیا اس کتاب میں اور بھی کچھ لکھا ہے؟ کوئی نقشہ وغیرہ؟”

"بہت کچھ لکھا ہے اس میں، بے قرار مت ہو،میں بتاتا ہوں۔” اینگس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ "اس میں لکھا ہے کہ شہنشاہ کیگان کے پاس جادوئی طاقت تھی جو اسے کسی خاص جادوئی گولے سے حاصل ہوئی تھی۔ جب وہ اسے استعمال کرتا تھا تو اس میں ان بارہ چیزوں کے کرنے کی صلاحیت آ جاتی تھی۔ اس میں یہ سارے نام لکھے ہوئے ہیں، کیا انھیں دہراؤں؟”

اینگس جو خود بھی کتاب کی تحریر میں کھو گئے تھے، سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔ وہ تینوں یک زبان ہو کر چلائے۔ "ہاں، ہاں بتا دیں۔”

"تو غور سے سنو، نمبر ایک، سب سے پہلے اس کے پاس ایسی صلاحیت آ جاتی تھی جس کی وجہ سے وہ غاروں اور زمین میں دفن خزانوں کو کھوج سکتا تھا۔ وہ کسی نقشے کو دیکھتا، اس کے درست مقام کو سمجھ لیتا اور پھر اپنے آدمیوں کے ذریعے وہ مدفون خزانہ نکال لیتا، اسی لیے وہ اتنا دولت مند تھا۔”

یہ سن کر فیونا نے ٹھنڈی سانس بھری۔ "یہ واقعی ایک زبردست قوت ہے۔ کاش میرے پاس بھی زیورات ہوں تو ہم کسی بڑے شہر کو منتقل ہوں اور مزید بیزار ہونے سے بچ جائیں۔”

"فیونا، دولت سب کچھ نہیں ہوا کرتی، یہ دیکھو کہ اس نے شہنشاہ کیگان کے ساتھ کیا کیا؟” اینگس نے فوراً کہا "خیر، سنو، دوسری طاقت یہ تھی کہ وہ لوگوں کو اشیا میں تبدیل کرنے پر قادر ہو جاتا تھا۔”

"کیا مطلب؟ کس قسم کی چیزوں میں؟” جبران چونک اٹھا۔ "ایسا تو کتاب میں کچھ نہیں لکھا۔” اینگس نے جواب دیا۔ "لیکن ہم خود بھی اس کا تصور کر سکتے ہیں۔ مثلاً انسان کو پتھر، بوتل یا درخت میں تبدیل کرنا وغیرہ ۔” کہتے کہتے اینگس کی آنکھوں میں پراسرار چمک آ گئی۔ "کچھ ایسے لوگ ہیں جنھیں میں بہت شوق سے چیزوں میں تبدیل کرنا چاہوں گا۔”

وہ تینوں مسکرانے لگے۔ اینگس نے کہانی جاری رکھی۔ "اس کے پاس جو تیسری قوت تھی، وہ خود کو نظروں سے غائب کرنے سے متعلق تھی۔ وہ جانوروں کے ساتھ باتیں کرسکتا تھا، انھیں اپنے حکم پر چلا سکتا تھا، جب کہ موسم، سمندر اور پانیوں پر بھی اس کا اختیار ہو جاتا تھا۔ وہ کئی زبانیں سمجھنے لگتا اور دوسروں کا دماغ پڑھ سکتا تھا۔ اور وہ خود کو کہیں بھی پہنچا سکتا تھا، دور دراز کے ملکوں میں بھی۔ایک اور دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ خود کو چھوٹا بڑا بھی بنا سکتا تھا، اور کہیں بھی اچانک ایک اشارے سے آگ بھڑ کا سکتا تھا۔ آخری یعنی نمبر بارہ یہ کہ وہ وقت میں بھی سفر کر لیتا تھا، یعنی ماضی میں بھی چلا جاتا تھا۔”

"یہ ناممکن ہے، کوئی بھی انسان یہ سارے کام نہیں کر سکتا۔ ایسا تو کوئی بھی جادو نہیں پایا جاتا۔” فیونا نے اچانک رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا "کم سے کم میں تو اس پر یقین نہیں کر سکتی، کہیں آپ ہمارے ساتھ مذاق تو نہیں کر رہے ہیں انکل اینگس؟”

"میری بچی، میں تمھارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، کتاب میں یہی کچھ لکھا ہے۔ اب تم اس پر یقین کرتی ہو یا نہیں، یہ تم پر منحصر ہے۔” اینگس نے کتاب کے اندر انگلی رکھ کر کتاب بند کر کے کہا۔

"مجھے اس پر یقین ہے۔” جبران ایک دم سے بول اٹھا۔ "مجھے بھی۔” دانیال نے بھی کہا۔ "لیکن شہنشاہ نے یہ جادوئی گیند کہاں سے حاصل کی تھی؟”

جبران نے دانیال کی بات اینگس کو ترجمہ کر کے سنائی، اینگس کافی دیر سے نوٹ کر رہے تھے کہ ہر بات کے اختتام پر جبران دانیال کے کان میں کھسر پھسر شروع کر دیتا تھا۔ اب ان کی سمجھ میں آیا کہ دانیال کو انگریزی نہیں آتی تھی۔ اینگس نے کتاب دوبارہ کھول کر دونوں کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اعتبار کیا اور اسے مذاق نہیں سمجھا۔

وہ مزید بتانے لگے "اس میں لکھا ہے کہ میسح سے تقریباً دو سو سال قبل ایک قدیم جادوگر نے کیگان کے آباو اجداد میں کسی کو یہ دیا تھا۔ کیگان سے بہت پیچھے کی نسلوں میں اس کے پینتالیسویں پردادا شنہشاہ رالفن ہوا کرتا تھا، جس کی سلطنت کا نام بورل تھا۔” اینگس نے بتایا کہ انھوں نے بورل نام کی جگہ کے بارے میں کبھی نہیں پڑھا، یا سنا۔ انھوں نے کہا "شہنشاہ رالفن کی بارہ عدد بیویاں تھیں، اور اس کے پاس جو جادوگر تھا، وہ بے حد ماہر تھا اور اس کا نام لومنا تھا۔”

"بارہ بیویاں…!” تینوں چیخ اٹھے۔

اینگس نے یہ کہ کر اپنی بات جاری رکھی کہ پرانے زمانے میں زیادہ شادیاں کرنا عام بات تھی۔ "جادوگر لومنا دراصل جادوگروں کی سرزمین زیلیا سے آیا تھا۔ اس نے رالفن کے پاس آ کر درخواست کی کہ اگر بادشاہ سلامت اسے اپنا جادوگرِ خاص مقرر کر دیں، تو یہ اس کی عزت افزائی ہوگی۔”

فیونا نے ایک بار پھر اعتراض کر دیا۔ "بھلا جادوگر کب سے لوگوں سے کہنے لگے کہ وہ انھیں اپنا جادوگر بنا لیں، مجھے اس پر یقین نہیں ہے۔”

"فیونا، یہ میں اپنی طرف سے نہیں سنا رہا ہوں، بلکہ کتاب میں جو لکھا ہے وہی پڑھ رہا ہوں، اور یہ مت بھولو کہ یہ کتاب تم ہی میرے پاس لے کر آئی ہو۔” اینگس نے سپاٹ لہجے میں کہا اور گلا صاف کر کے بتانے لگے۔ "یہ بات ہر طرف مشہور ہو گئی تھی کہ شہنشاہ رالفن اس زمین کا سب سے بڑا بادشاہ ہے۔ وہ ایک بہادر جنگجو تھا۔ اس کے پاس بہت بڑی فوج تھی، لیکن لوگوں کو اس سے اس کی نرم دلی اور عدل کی وجہ سے پیار تھا۔ وہ صرف اپنی رعایا ہی کے لیے اچھا نہیں تھا بلکہ وہ اپنی بارہ بیویوں کو بھی بہت چاہتے تھے۔ ان بیویوں سے رالفن کے ڈیڑھ سو بچے تھے۔”

"ڈیڑھ سو بچے…” جبران اچھل پڑا۔ "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”

"بھئی، اگر تمھاری بھی بارہ بیویاں ہوں تو اتنے بچے تمھارے بھی ہو سکتے ہیں۔”فیونا نے مسکرا کر شرارت آمیز لہجے میں کہا۔

"ناممکن… میں تو ایک بھی شادی نہیں کرنے والا، بارہ تو دور کی بات۔” جبران فوراً بولا اور پھر سے کرسی پر بیٹھ گیا۔

"تم لوگ اپنی ہی بولو گے یا مجھے اسے ختم کرنے دو گے؟” اینگس نے مداخلت کی اور پھر کتاب پر نظریں جما دیں۔

(جاری ہے….)

Comments

یہ بھی پڑھیں