The news is by your side.

Advertisement

اب روبوٹ فالج اور دماغی رگ پٹھنے کا علاج کریں گے

طب کی دنیا میں خوشخبری ہے کہ اب ایسے مقناطیسی روبوٹ تیار کرلیے گئے ہیں جو فالج اور دماغی رگ پٹھنے کا علاج کرسکیں گے۔

فالج ہونا یا دماغ کی رگ پھٹنا خطرناک اور جان لیوا امراض میں شمار کیے جاتے ہیں۔

فالج سے متاثرہ مریض کو  دو صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس میں ایک میں تو خون کا لوتھڑا کہیں پھنس کر دماغ کو خون اورا آکسیجن کی فراہم رک جاتی ہے اور دوسری صورت میں خون کا دباؤ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اس سے خون کی رگ پھٹ جاتی ہے اور دماغ میں خون جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

پہلی صورت میں خون پتلا کرنے کی دوا دی جاتی ہے جو کسی بھی طرح برین ہیمبرج میں استعمال نہیں ہوسکتی۔ ایسے مریضوں میں موت کا امکان 50 فیصد تک جاپہنچتا ہے اور اس کا کوئی مؤثر علاج اب تک ہمارے پاس موجود نہیں۔ بسا اوقات خون کا لوتھڑا گھلانے والی دوا ہی دی جاتی ہے۔

طبی دنیا میں ہونیوالی ایک نئی تحقیق میں فالج کی صورت میں جریانِ خون کو روکنے کے لیے ایک باریک روبوٹ بنایا گیا ہے تو مقناطیس سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے، اس روبوٹ کی جانوروں پر آزمائش کی گئی ہے جس میں 86 فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے جو کافی حوصلہ افزا نتیجہ ہے۔

نیچر کمیونکیشن میں شائع ایک مقالے میں پوردوا یونیورسٹی کے ہیوون لی اور ان کے ساتھیوں نے ایک خردبینی روبوٹ بنایاہے جو بالخصوص برین ہیمریج کی صورت میں جمع شدہ خون صاف کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے دیکھا کہ جب انہیں 6 سے 7 جانوروں پر آزمایا گیا تو ان کے دماغ میں جما ہوا خون کامیابی سے صاف کرلیا گیا۔ ان میں کانٹے دار سہہ بھی شامل تھی۔

اس موقع پر ہیوون لی نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی فالج (اسٹروک) سے متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوسکتی ہے جو انہیں موت اور معذوری سے بچاسکتی ہے، اگلا مرحلے میں اس کی ایف ڈی اے سے منظوری کی کوشش کی جائے گی۔

اس روبوٹ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کو دور رہ کر مقناطیسی میدان سے چلایا اور متاثرہ مریض کا خون صاف کیا جاسکتا ہے۔ روبوٹ کسی قطب نما کی طرح گھومتا ہے اور یوں خون کے بہاؤ کا راستہ بناتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں