اسلام آباد (23 اکتوبر 2025): پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر ایٹمی بجلی کی پیداوار 39.54 فی صد بڑھ گئی ہے۔
نیپرا دستاویز کے مطابق رواں سال ستمبر میں جوہری ایندھن سے 2 ہزار 227 میگاواٹ سستی بجلی پیدا کی گئی، جوہری ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 2 روپے 18 پیسے فی یونٹ رہی۔
دستاویز کے مطابق گزشتہ سال ستمبر میں نیوکلیئر انرجی کی پیداوار 1 ہزار 596 میگاواٹ تھی۔
سالانہ بنیادوں پر فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار میں 148.72 فی صد اضافہ ہوا ہے، رواں سال فرنس آئل سے 0.77 فی صد بجلی پیدا کی گئی، جب کہ گزشتہ سال ستمبر میں فرنس آئل سے 0.31 فی صد بجلی پیدا کی گئی تھی، فرنس آئل سے بجلی کی فی یونٹ لاگت 28 روپے 24 پیسے فی یونٹ رہی۔
آئی ایم ایف راضی ! عوام پر منی بجٹ کے خطرات ٹل گئے
دوسری طرف سالانہ بنیادوں پر پن بجلی کی پیداوار 1.14 فی صد گر گئی ہے، رواں سال ستمبر میں پن بجلی کی پیداوار 38 فیصد رہی، درآمدی ایل این جی سے بھی بجلی کی پیداوار میں 8.44 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق درآمدی ایل این جی سے بجلی کی فی یونٹ لاگت 21 روپے 19 پیسے رہی، مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار 4.76 فی صد کم رہی، مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار 13 روپے 50 پیسے فی یونٹ رہی۔
واضح رہے کہ ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر بجلی کی پیداوار میں 0.84 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں


