The news is by your side.

سال 2022 ارب پتی افراد کیلئے کیوں بُرا ثابت ہوا؟

رواں سال 2022میں دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی دولت میں بڑی حد تک کمی آئی ہے جس کے سبب متعدد ممالک کی معیشت بھی سست روی کا شکار ہورہی ہے۔

اس حوالے سے غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس یوکرین جنگ، مانیٹری پالیسی میں سختی، اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ اور چین کی معاشی سست روی کی وجہ سے سال2022 میں دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے سب سے بڑے بینک کے اعداد وشمار کے مطابق مارچ 2022 میں2 ہزار 668 ڈالر مالیت کے اثاثے رکھنے والے ارب پتی ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں87 کم ہیں۔

یو بی ایس بلینیئر ایمبیشنز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ان افراد کی دولت کا تخمینہ لگانے کے بعد ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ12.7 ٹریلین ڈالر ہے جو ایک سال پہلے 13.1 ٹریلین ڈالر تک تھا۔

رپورٹ کے مطابق اثاثوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے مارچ 2022 سے ارب پتی افراد کی کل دولت اور تعداد میں مزید کمی کا امکان ہے۔ سال 2022میں 273 ارب پتی ہیں جبکہ اس قبل ان کی تعداد 360 تھی۔

یو بی ایس کا مزید کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح سود، وبائی امراض کا دوبارہ آغاز اور یورپ میں جاری جنگ کے باعث مارکیٹ کی غیریقینی صورتحال، کاروبار اور تجارت کے اتار چڑھاؤ کو جنم دے رہی ہے جس کی وجہ سے عدم استحکام کی صورتحال درپیش ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کی اپنی کورونا پالیسی نے دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی اور سب سے بڑی معیشت کی سرگرمیوں کو بھی سست کردیا ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ چینی ارب پتیوں کی تعداد 626 سے کم ہو کر 540 رہ گئی ہے جبکہ امریکہ میں ارب پتیوں کی تعداد 724 سے بڑھ کر735 ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ مغربی یورپ میں تعداد 474 سے کم ہوکر 467 رہ گئی اور مشرقی یورپ میں 154 سے 127تک جبکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ارب پتیوں کی تعداد 91 سے گھٹ کر 89 رہ گئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2021 میں کوویڈ 19 وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کی جانے والی کورونا پابندیوں اور سخت پالیسیوں کی بدولت ارب پتیوں کی دولت میں کافی حد تک اضافہ ہوا تھا۔

یاد رہے کہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست امریکی رسالہ فوربز میں ہر سال مارچ کے مہینے میں شائع کی جاتی ہے، مذکورہ فہرست میں شامل ارب پتی افراد کی دولت کا تخمینہ لگایا جاتا ہے جو امریکی ڈالر کی صورت میں ہوتا ہے تاہم اس فہرست میں بادشاہوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں