کراچی : شہر قائد کی آبادی تقریباً ڈھائی کروڑ سے زائد ہے اور اس آبادی کیلیے فائر اسٹیشنز کی تعداد بھی اسی مناسبت سے ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی میں آگ بجھانے کے نظام پر پھر کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اصولی طور پر ایک لاکھ کی آبادی کیلیے ایک فائر اسٹیشن ہونا چاہیے، جس کی مناسبت سے یہاں کم از کم 200 فائر اسٹیشن موجود ہونا ضروری ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں سابق چیف فائر آفیسر نے چونکا دینے والے حقائق بیان کیے ہیں، انہوں نے بتایا کہ کراچی کو اس وقت 200 فائر اسٹیشنز کی ضرورت ہے لیکن صرف 12 موجود ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کراچی کا پہلا فائر اسٹیشن 1914 میں قائم کیا گیا، اور قیام پاکستان کے بعد ایک اور اسٹیشن تعمیر کیا گیا،
اس شہر کی مجموعی آبادی صرف ساڑھے چار لاکھ نفوس پر مشتمل تھی، انہوں نے کہا کہ آج یہ صورتحال ہے شہر کی آبادی لگ بھگ تین کروڑ تک جا پہنچی ہے اور مرکزی فائر اسٹیشن صرف 12 ہیں۔ان کے ساتھ اگر ان چھوٹے فائر اسٹیشنز کو ملایا جائے جو کسی سڑک یا پل کے نیچے قائم ہیں ان کو ملا کر ٹوٹل 28 اسٹیشنز ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت فائر فائٹرز کی تعداد 930 ہے جبکہ شہر کو 15 سے 20 ہزار فائر فائٹڑز کی ضروت ہے اور فائر اسٹیشنز کی تعداد بھی کم از کم 200 اور گاڑیاں 600 ہونی چاہیے۔ اس وقت ایک فائر فائٹر ایک ہزار افراد کا کام کررہا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی سیٖفٹی کیلیے کچھ نہیں ہوتا۔
کراچی میں کتنے فائر اسٹیشن ہیں اور ہونے کتنے چاہئیں؟ ہوشربا انکشاف
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


