The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: برطانوی طبی عملے کی تکلیف دہ کہانیاں

لندن : کرونا وائرس سے لڑنے والے ہراول دستے نے اپنی درد بھری کہانیاں سناکر سب کو غمگین کردیا، ایک نرس نے بتایا کہ وہ اسپتال پہنچنے کے باعث اپنا دادا کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوسکی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس ن اٹلی، اسپین اور امریکا کی طرح برطانیہ میں تباہی مچانا شروع کردی ہے جہاں ایک ایک دن میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں ایسے میں طبے عملے نے اپنی تکالیف دہ کہانیاں سوشل میڈیا صارفین سے شیئر کی ہیں۔

ایک نرس نے صارفین کو بتایا کہ مجھے کرونا ایمرجنسی کے باعث اپنے دادا کی آخری رسومات چھوڑ کر اسپتال پہنچا پڑا جبکہ ایک اور نرس نے اپنے پھٹے ہوئے چہرے کی تصویر شیئر کی جو روزانہ 11 گھنٹے مسلسل ماسک پہننے کے باعث ایسا ہوگیا تھا۔

نیشنل ہیلتھ سروس کے دیگر عملے نے کہا کہ ہم انضباطی کروائی کے باعث شکایات کرنے قاصر ہیں جبکہ ہمیں حفاظتی سامان بھی مہیا نہیں کیا جارہا۔

نیشنل ہیلتھ سروسز کے عملے کی جانب سے یہ شکایات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 1 ہزار افراد زندگی کی بازی ہار گئے اور حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کو مئی تک بڑھانے کا سوچا جارہا ہے۔

شینن نامی نرس نے ٹویٹر پر تکلیف دہ کہانی بتائی کہ آج مجھے اپنے دادا کی آخری رسومات میں ہونا چاہیے تھا لیکن میں کوویڈ 19 کی وجہ سے اپنے دادا کی آخری رسومات میں اپنے والد کو حوصلہ دینے کےلیے موجود نہیں ہوں جبکہ وہ اپنے والد کی موت پر غمزدہ ہیں۔

اسی طرح دیگر عملے نے بھی اپنی کہانیاں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کی، جس میں ایک نرس نے اپنا چہرہ خراب ہونے کی تصویر شیئر کی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں