لاس اینجلس / ٹورنٹو : ہارر فلم’آبسیشن‘ (Obsession) ڈراؤنی فلموں میں ریکارڈ بزنس کی نئی تاریخ رقم کرکے اب تک کی سب سے بڑی سرپرائز ہٹ مووی بن گئی ہے۔
جی ہاں، ڈراؤنی فلم ‘آبسیشن’ باکس آفس پر ایک بڑی کامیابی کی علامت بن چکی ہے اور اس نے نئی تاریخ رقم کرکے فلمی دنیا کو حیران کردیا ہے۔
یہ فلم اتنی کامیاب رہی کہ اس نے صرف 7 لاکھ 50ہزار ڈالر کے انتہائی کم بجٹ میں بن کر دنیا بھر میں 22کروڑ 40 لاکھ ڈالر (224 ملین )سے زیادہ کی کمائی کرلی اس طرح یہ فلم فوکس فیچر کی اب تک کی سب سے کامیاب فلم بن گئی ہے۔
اس شاندار کامیابی سے متعلق چند اہم اور دلچسپ حقائق درج ذیل سطور میں بیان کیے جارہے ہیں، اس ڈراؤنی فلم کی ہدایت کاری ایک عام یوٹیوبر سے فلم ساز بننے تک کا سفر کرنے والے کری بارکر نے کی ہے۔
مذکورہ فلم صرف ساڑھے7 لاکھ ڈالر کے انتہائی کم بجٹ میں تیار کی گئی تھی مگر اس نے ریلیز کے بعد چند ہی ہفتوں میں عالمی سطح پر غیر معمولی بزنس کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔
فلم نے اپنے چوتھے ہفتے میں 2 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کمائے، فلم کی یہ کمائی اس کے بجٹ کا 300 گنا سے بھی زائد ہے، جس سے یہ سال کی سب سے زیادہ منافع بخش فلموں میں سے ایک بن گئی ہے جو ہارر فلمی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے، اس سے قبل یہ اعزاز 1999 کی مشہور فلم ’دی بلیئر وچ پروجیکٹ‘ کے پاس تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق ’آبسیشن‘ (Obsession) وہ پہلی فلم بھی بن گئی ہے جو 1982 کی اسٹیون اسپیلبرگ کی کلاسک فلم ای ٹی کے بعد دوسرے اور تیسرے ہفتے میں اپنی کمائی میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی۔
فلم کو ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں فوکس فیچر نے تقریباً 1.5 کروڑ ڈالر میں خریدا تھا، جو بعد میں ایک منافع بخش سرمایہ کاری ثابت ہوئی۔
فلم ساز کری بارکر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے بعد ان کے نئے پروجیکٹس پر بھی بڑی اسٹوڈیوز کی دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے پہلے ہی اپنی اگلی فلم “اینیتھنگ بِٹ گھوسٹ” مکمل کرلی ہے جبکہ وہ اے 24کے ساتھ نئی ’دی ٹیکساس چینسا میساکر‘ فلم کی ہدایت کاری بھی کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق ان کے اگلے غیر پیش کردہ پراجیکٹ کے لیے ایک اسٹوڈیو نے بغیر اسکرپٹ دیکھے 10 ملین ڈالر کی پیشکش بھی کی، جو ان کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتی ہے۔


