site
stats
پاکستان

مقبوضہ کشمیر:پولیس اور مظاہرین میں‌ جھڑپیں، 8افراد ہلاک، متعدد زخمی

سری نگر:انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

یہ مظاہرے جمعے کو انڈین سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جنوبی کشمیر کے علاقے کوکر ناگ میں عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے 25 سالہ رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔

کشمیر کی خفیہ پولیس کے سربراہ ایس ایم سہائے کے مطابق اس ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے دوران آٹھ مظاہرین پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں مارے گئے جبکہ حالات پر قابو پاتے ہوئے 96 پولیس اور نیم فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔

مختلف مقامات پر مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی وجہ سے 70 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالات تشویش ناک ہے۔پرتشدد مظاہروں کی یہ لہر جمعہ کی شام برہان وانی کی لاش کوکر ناگ سے ان کے آبائی قصبہ ترال منتقل کرتے ہوئے پھیلی۔

ترال میں سنیچر کی صبح ہزاروں لوگوں نے برہان کی نماز جنازہ میں شرکت کی جس کے بعد پولیس ذرائع نے اعتراف کیا کہ چالیس ہزار افراد نے برہان کے جنازے میں شرکت کی۔علاوہ ازیں سری نگر، کولگام، اننت ناگ، شوپیان، پلوامہ، سوپور، بانڈی پورہ اور سرینگر کے سینکٹروں مقامات پر لوگوں نے برہان کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔

شہروں اور قصبوں میں ناکا بندی ہے، انٹرنیٹ سروس معطل ہے اور موبائل فون کے رابطے معطل ہیں۔ اندرونی ریل سروس معطل کی گئی اور جامعات و کالجوں کے امتحانات ملتوی ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ برہان وانی سال 2010ء کی عوامی تحریک کے بعد سے روپوش تھے اور بعد میں انھوں نے 25 سال سے سرگرم مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی تھی اُس وقت ان کی عمر محض 15 سال تھی۔چند سال قبل برہان نے اپنے 10 ساتھیوں کے ہمراہ فوجی وردی میں مسلح ہو کر سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کیں۔

انھوں نے کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو پیغام میں پولیس اور فوج کے ٹھکانوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی تاہم یہ واضح کیا تھا کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں کشمیر آنے والے ہندو یاتری مسلح گروپوں کا ہدف نہیں۔

پولیس کے مطابق برہان کے 11 نفری گروپ میں سے طارق پنڈت نامی شدت پسند نے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے ہیں جبکہ برہان سمیت کم از کم آٹھ دیگر کو مختلف جھڑپوں کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے جنگلوں میں اب حزب المجاہدین کے ایک اور کمانڈر صدام پڈر اور ان کے ایک ساتھی سرگرم ہیں جبکہ پوری وادی میں پونے دو سو مسلح شدت پسند موجود ہیں جن میں سے 57 غیرملکی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top