The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر: بھارتی فورسزکی ریاستی دہشت گردی جاری، 2 نوجوان زخمی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے موٹرسائیکل پر جانے والے 2 نوجوانوں کو زخمی کردیا، کشمیریوں کی آواز کو دبانے اور انہیں دھمکانے کے لیے بھارت کی خفیہ ایجنسیاں متحرک ہوگئیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں نے پلوامہ کے رہائشی نوجوانوں شاھد فاروق اور عاقب احمد ڈار کو  بنڈزو میں قریب ایک چیک پوسٹ سے گزرتے ہوئے فائرنگ کانشانہ بنایا، زخمیوں کو سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

واقعے کے بعد علاقہ مکینوں نے بھارتی مظالم کے خلاف شدید احتجاج کیا، کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے بھارت نے جنت نظیر وادی میں مزید نفری تعینات کردی جبکہ شہریوں کو دھمکانے کے لیے انٹیلی جنس افسران، ٹیکس ایجنسیاں بھی متحرک ہوگئیں۔

حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی مظالم پر آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیرکا مسئلہ قراردادکےذریعےحل کرنا جرم نہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ طاقت کے ذریعے ہماری سرزمین پر قبضہ کرلے گا تو وہ اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مودی سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اگر بھارتی فورسز کشمیر میں مظالم سے باز نہ آئیں تومعاملات بھارت کے ہاتھ سے نکل جائیں گے. انہوں نے حالیہ کارروائیوں پر بھی بھارتی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

علاوہ ازیں کشمیریوں کی جدوجہد کرنے والی تنظیم لبریشن فرنٹ نے بھارت کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ برطانیہ بھی اپنے دورِ حکومت میں پابندیوں، گرفتاریوں کے ذریعے ہمیں نہیں دبا سکا تو بھارت کس طرح کشمیریوں کی آواز کو دبائے گا۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائم قام چیئرمین عبدالحمید بٹ کا کہنا تھا کہ پابندیوں ، گرفتاریوں اور سیاسی جماعتوں پر پابندی سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے کہا تحریک آزادی کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے ہماری تیسری نسل تیار ہے، اشفاق مجید وانی، شبیر صدیقی جیسے کشمیر کے عظیم بیٹوں نے اپنی جانوں‌ کا نذرانہ دے کر اس نظریے کو پروان چڑھایا اور بھارتی فوج کے آگے کبھی نہیں جھکے۔

عبدالحمید بٹ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری جانتی ہے جموں و  کشمیر لبریشن فرنٹ پر امن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور وہ عالمی سطح تسلیم شدہ متنازع خطے کا ایک پر امن حل چاہتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں