The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر میں دوسرے روز بھی کرفیو، ہر قسم کے رابطے منقطع، عوام میں خوف ہراس

سری نگر : بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی حیثیت اور خصوصی درجے کے خاتمے کے اعلان کے بعد وادی میں دوسرے دن بھی خوف ہراس برقرار رہا، کرفیو، موبائل فون اور نیٹ کی بندش کے باعث ہر قسم کے رابطے منقطع رہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کا دوسرے روز بھی دنیا سے رابطہ منقطع رہا، مقبوضہ کشمیر میں ہرطرف خاردار تاریں ہیں، کسی کو نہیں معلوم کیا ہورہا ہے؟

مقبوضہ کشمیر میں ٹیلیفون، موبائل نیٹ اور انٹرنیٹ بھی تاحال بند ہے، پوری وادی پر لاکھوں کی تعداد میں بھارتی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حالیہ بھارتی اقدام کی وجہ سے کشمیری عوام کے اندر شدید غصہ بھرا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے آج بھی بند ہیں۔

اس حوالے سے کشمیر میڈیا سروس کا کہنا ہے کہ سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میرواعظ عمر فاروق سمیت حریت قیادت مسلسل قید و بند کی صوبتیں برداشت کررہے ہیں۔

کرفیو اور دیگر غیر اعلانیہ پابندیوں کی وجہ سے اخبارات بھی شائع نہیں ہوسکے۔ کشمیر کے تمام دس اضلاع میں کرفیو نافذ ہے کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔

اس کے علاوہ میڈیا نمائندوں کو بھی وہاں جانے اور رپورٹنگ کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ بھارتی فوجیوں نے صحافیوں کے موبائل فون چیک کرکے ان میں موجود تصاویر بھی ڈیلیٹ کروادیں۔

دوسری جانب کشمیری عوام نے لداخ کو وفاقی علاقہ قرار دینے کے خلاف کارگل میں ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ کارگل کی مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھارتی غیرقانونی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں